ٹرمپ کی نئی امیگریشن پالیسی سے امریکا میں افرادی قوت کا بحران

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس (TPS) ختم کرنے کے منصوبے نے امریکا کے مختلف کاروباری شعبوں میں افرادی قوت کی قلت کے خدشات کو شدید طور پر بڑھا دیا ہے۔ کاروباری اداروں اور صنعتی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اس حکومتی اقدام سے پہلے ہی مزدوروں کی کمی کا شکار کئی اہم شعبے مزید سنگین مشکلات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔
افرادی قوت کے بحران کے خدشات
امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صحت، تعمیرات، زراعت، ہوٹلنگ، مینوفیکچرنگ اور دیگر کلیدی شعبوں میں ہزاروں ایسے کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں جو ٹی پی ایس کے تحت قانونی طور پر امریکا میں مقیم اور ملازمت کر رہے ہیں۔ کاروباری حلقوں کا ماننا ہے کہ ان تجربہ کار کارکنوں کی واپسی سے نہ صرف اہم آسامیوں کو پُر کرنا ناممکن ہو جائے گا بلکہ کاروباری سرگرمیاں بھی جمود کا شکار ہو جائیں گی، جس کے نتیجے میں پیداواری اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اس حوالے سے ممتاز ایٹمی سائنس دان اور سابق چیئرمین پی اے ای سی پرویز بٹ انتقال کر گئے جیسے قومی معاملات کی طرح اس پالیسی کے اثرات بھی گہرے مرتب ہوں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف
دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کا دو ٹوک مؤقف ہے کہ ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس ایک عارضی انسانی ہمدردی کا پروگرام ہے، جس کا بنیادی مقصد جنگ، قدرتی آفات یا دیگر ہنگامی حالات سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو وقتی تحفظ فراہم کرنا ہے، نہ کہ اسے مستقل رہائش یا ملازمت حاصل کرنے کا مستقل راستہ بننے دینا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سرحدی سلامتی اور قانون کی بالادستی اولین ترجیح ہے۔ اس سے قبل نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور رافیل گروسی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ جیسے عالمی سطح کے رابطے بھی پالیسی سازی میں اہمیت رکھتے ہیں۔
معاشی اثرات اور کاروباری تنظیموں کا ردعمل
کاروباری تنظیمیں اور آجر انتظامیہ کے اس سخت موقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ٹی پی ایس کے تحت کام کرنے والے بہت سے افراد برسوں سے امریکی معیشت کا اٹوٹ انگ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق خاص طور پر صحت کے شعبے میں نرسنگ اسسٹنٹس، کیئر گیورز اور معاون طبی عملے کی ایک بڑی تعداد اسی پروگرام کے تحت خدمات انجام دے رہی ہے، جبکہ تعمیرات، زراعت اور مہمان نوازی کی صنعتیں بھی ان کارکنوں پر کافی حد تک انحصار کرتی ہیں۔ جس طرح پاکستان اور قازقستان کا تعلیمی و سائنسی ریسرچ سینٹر قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، ویسے ہی معاشی استحکام کے لیے لیبر مارکیٹ میں توازن ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف امیگریشن پالیسی تک محدود نہیں بلکہ اس کے امریکی معیشت اور کاروباری سرگرمیوں پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے کاروباری حلقے مسلسل حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ سرحدی سلامتی کے تقاضوں اور معیشت کی افرادی قوت کی ضروریات کے درمیان ایک متوازن پالیسی اختیار کی جائے۔