مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

امریکی ناظم الامور کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے اہم ملاقات

امریکی ناظم الامور کی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے اہم ملاقات

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب سے پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے پیر کے روز وزارت خزانہ میں ایک اہم ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین اقتصادی تعلقات، دوطرفہ اقتصادی تعاون کے فروغ اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے امریکی ناظم الامور کو اپنے حالیہ دورہ واشنگٹن کے بارے میں بریفنگ دی، جہاں انہوں نے امریکی وزیر خزانہ، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اعلیٰ انتظامیہ، امریکی انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ فنانس کارپوریشن (ڈی ایف سی) اور امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک (ایگزم بینک) کے حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انہوں نے امریکی اداروں کے ساتھ ہونے والی تعمیری بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مالیاتی تعاون، سرمایہ کاری اور پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر قابلِ عمل منصوبوں کے لیے فنانسنگ کے مواقع کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔

پاکستان اور امریکا تجارتی فریم ورک پر متفق

وزیر خزانہ نے امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر (یو ایس ٹی آر) کے ساتھ پاکستان اور امریکا کے باہمی تجارتی فریم ورک کے حوالے سے حالیہ رابطوں سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان باہمی مفاد کی بنیاد پر اس فریم ورک کو آگے بڑھانے میں پرعزم ہے، جس میں مارکیٹ تک رسائی، برآمدی مواقع میں اضافہ اور دوطرفہ تجارت کا فروغ شامل ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹس میں پاکستان کی پیش رفت اور فنانسنگ کے ذرائع کو متنوع بنانے کی حکومتی کوششوں پر روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، ملکی خودمختار کریڈٹ پروفائل کو مستحکم بنانے اور معاشی استحکام و پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے طویل المدتی فنانسنگ کے ذرائع تک رسائی پر خصوصی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

سرمایہ کاری کے نئے امکانات

ملاقات میں امریکی مالیاتی اداروں بالخصوص ڈی ایف سی کی پاکستان کے سرمایہ کاری کے شعبے میں مزید شمولیت کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے سرمایہ کاری کے لیے تیار مخصوص منصوبوں کی نشاندہی اور مناسب فنانسنگ ڈھانچے وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ امریکی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کی پاکستان میں شرکت بڑھائی جا سکے۔ اس موقع پر ٹیکسوں کی بھرمار اور توانائی کے شعبے کے علاوہ بندرگاہوں، لاجسٹکس، ٹیلی کمیونیکیشن، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ امریکی ناظم الامور نٹالی بیکر نے حالیہ علاقائی تنازعات اور ان کے معاشی اثرات، بالخصوص توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیر خزانہ نے انہیں حکومت کے حالیہ اقدامات سے آگاہ کیا، جن میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے عالمی منڈی سے مطابقت کے لیے روزانہ قیمتوں میں نظرثانی کا نظام شامل ہے۔ انہوں نے مالیاتی نظم و ضبط اور ساختی اصلاحات کے ذریعے برآمدات پر مبنی معیشت کے عزم کا اعادہ کیا۔ نٹالی بیکر نے پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے امریکی حمایت کا یقین دلایا اور مشکل حالات میں معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کی تعریف کی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں