واشک کے علاقے ماشکیل میں دہشت گردوں کا حملہ، 5 مزدور شہید

واشک (نمائندہ خصوصی)۔ صوبہ بلوچستان کے ضلع واشک کے علاقے ماشکیل میں فتنہ الہندوستان کے بزدل دہشت گردوں نے نہتے اور معصوم مزدوروں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5 مزدور شہید ہو گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب مزدور اپنے روزگار کے حصول میں مصروف تھے۔
شہید ہونے والے مزدوروں کی شناخت
سیکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ دہشت گردوں کے اس بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والے پانچوں مزدوروں کا تعلق صوبہ پنجاب سے تھا۔ شہید ہونے والوں میں محمد بلال، محمد حسن، محمد قدیر، محسن اور بلال شامل ہیں۔ یہ واقعہ ان عناصر کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے جو بلوچستان میں آپریشن شعبان کے دوران مسلسل شکست اور ہزیمت کا سامنا کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور دہشت گردوں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان بزدل دہشت گردوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور شہداء کے خون کا حساب لیا جائے گا۔
ماہرین کے تجزیات اور خدشات
ماہرینِ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں پسپائی کا شکار ہونے کے بعد یہ دہشت گرد اب معصوم شہریوں اور سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنا رہے ہیں تاکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا جا سکے۔ جیسا کہ حالیہ عرصے میں پاکستان میں اہم قومی پیشرفت اور عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیاں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں، دشمن قوتیں اسے سبوتاژ کرنے کے لیے نسلی بنیادوں پر نفرت پھیلا رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق، فتنہ الہندوستان کا یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لیے عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس سے قبل بھی کراچی سے کوئٹہ تفریح کی غرض سے آنے والی ایک فیملی کو اسی فتنے نے سفاکی کا نشانہ بنایا تھا۔ یاد رہے کہ سیکیورٹی فورسز ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف برسرِ پیکار ہیں اور اس حوالے سے بلوچستان میں آپریشن شعبان، فتنہ الخوارج کے 71 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جس سے ان کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔