آئی جی جیل خانہ جات پنجاب کو رشوت دینے کی کوشش، آئی جی نے سپرنٹینڈنٹ جیل اٹک کو گرفتار کروا دیا

لاہور/اٹک: آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال کو مبینہ طور پر رشوت دینے کی کوشش کرنے والے سپرنٹینڈنٹ جیل اٹک عمران برتھ کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب نے رشوت کے لفافے سمیت گرفتار کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق سپرنٹینڈنٹ جیل اٹک عمران برتھ 5 اکتوبر 2026 کو رات تقریباً 10 بجے آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پہنچے۔ ملاقات کے دوران ڈسٹرکٹ جیل اٹک کے سیکیورٹی، سیفٹی اور دیگر انتظامی امور پر گفتگو ہوئی، جس کے بعد وہ چائے پی کر وہاں سے روانہ ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق تقریباً دو منٹ بعد سپرنٹینڈنٹ جیل اٹک دوبارہ آئی جی جیل کی رہائش گاہ پر واپس آئے اور ایک اہم بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ آئی جی جیل خانہ جات ڈرائنگ روم میں پہنچے تو عمران برتھ وہاں موجود تھے، جہاں انہوں نے مبینہ طور پر نوٹوں سے بھرا ایک لفافہ آئی جی جیل کی میز پر رکھ دیا۔
آئی جی جیل خانہ جات پنجاب نے مبینہ رشوت کی رقم قبول کرنے سے فوری طور پر انکار کرتے ہوئے واقعے کی اطلاع سیکرٹری ہوم پنجاب کو دی، جس کے بعد اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کو فوری کارروائی کے لیے آگاہ کیا گیا۔
اینٹی کرپشن حکام نے کارروائی کرتے ہوئے سپرنٹینڈنٹ جیل اٹک عمران برتھ کو مبینہ رشوت کی رقم پر مشتمل لفافے سمیت گرفتار کر لیا۔
واقعے کو اس اعتبار سے غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کہ کارروائی محکمہ جیل خانہ جات کے ایک اہم انتظامی عہدے پر تعینات سپرنٹینڈنٹ جیل کے خلاف عمل میں لائی گئی۔ آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں سالک جلال نے واضح کیا ہے کہ محکمہ جیل خانہ جات میں کرپشن، رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور کسی افسر یا اہلکار کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
واقعے کے حوالے سے اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ پنجاب کی جانب سے مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات جاری ہیں۔