مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

ماسکو میں افغانستان سے متعلق مشاورت، پاکستان، طالبان اور کئی ممالک کے مندوبین شریک، پاکستان نے دہشت گردی اور دراندازی کا معاملہ اٹھا دیا

ماسکو، 5 اکتوبر — افغانستان کی صورتحال پر ماسکو میں ہونے والی آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورت میں پاکستان، افغان طالبان انتظامیہ اور خطے کے کئی ممالک کے اعلیٰ سطحی مندوبین شریک ہوئے، تاہم اجلاس پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ نمایاں طور پر حاوی رہا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ افغانستان سے پیدا ہونے والی دہشت گردی خطے کے امن و سلامتی کے لیے بنیادی چیلنج ہے۔

پاکستان کی نمائندگی وزیراعظم کے معاون خصوصی اور افغانستان کے لیے خصوصی نمائندے سفیر محمد صادق نے کی، جبکہ وفد میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، افغانستان میں پاکستان کے سفیر عبیدالرحمٰن نظامانی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق مشاورت میں علاقائی امن و سلامتی، انسداد دہشت گردی، اقتصادی تعاون، علاقائی رابطوں اور افغانستان کے ساتھ مسلسل سفارتی روابط پر توجہ مرکوز کی گئی۔

محمد صادق نے اجلاس میں دوٹوک انداز میں کہا کہ دہشت گردی افغانستان کے مسائل کا بنیادی مرکز ہے۔ انہوں نے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور پاکستان کے خلاف ان کی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانون کے مطابق تمام مناسب اقدامات جاری رکھے گا۔ ڈان کے مطابق پاکستانی خصوصی نمائندے نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغانستان سے منسلک دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زائد پاکستانی شہری جان سے جا چکے ہیں۔

محمد صادق نے پاکستان کے خلاف سرحد پار دہشت گردی کے تناظر میں طالبان انتظامیہ اور دہشت گرد گروہوں کے درمیان تعلقات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور پاکستان کی جانب سے کیے گئے جوابی اقدامات کو ان کے بقول درست معلومات کی بنیاد پر دفاعی نوعیت کے اقدامات قرار دیا۔

دوسری جانب افغان طالبان انتظامیہ کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کا ذمہ دار پاکستانی حملوں کو قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی۔ تاہم متقی نے اسی موقع پر کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان مسائل بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ مؤقف انہوں نے ماسکو میں افغانستان سے متعلق مذاکرات کے دوران اختیار کیا۔

ماسکو آمد پر روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے امیر خان متقی کا خیرمقدم کیا اور طالبان کے نقطۂ نظر کے مطابق افغانستان سے امریکی و نیٹو افواج کے انخلا کی پانچویں سالگرہ پر انہیں مبارک باد دی۔ لاوروف نے طالبان انتظامیہ کی جانب سے داعش اور دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف اقدامات اور منشیات کے خاتمے کی کوششوں کو بھی سراہا۔

روس نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی میں ثالثی کی پیشکش بھی کی ہے۔ روسی صدر کے نمائندے برائے افغانستان ضمیر کابلوف نے کہا کہ اگر دونوں فریق درخواست کریں تو ماسکو تنازع ختم کرنے کے لیے آزادانہ طور پر یا دوسرے شراکت داروں کے ساتھ مل کر تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرنے کے لیے تیار ہے۔

آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورت میں پاکستان، افغانستان، روس، چین، بھارت، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندوں نے شرکت کی، جبکہ بیلاروس اور مصر کو بطور مہمان مدعو کیا گیا تھا۔ روسی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس کا بنیادی ایجنڈا افغانستان کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعاون، علاقائی رابطوں اور دہشت گردی و منشیات کے خلاف علاقائی تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

ماسکو میں ہونے والی یہ مشاورت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات میں اضافہ ہوا ہے۔ اجلاس میں دونوں جانب سے اپنے اپنے مؤقف پیش کیے گئے، جبکہ روس نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں