اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیاں شروع، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کی جائے

اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیاں شروع، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے قانون سازی کی جائے،
اسلام آباد، 31 جولائی: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے جاری پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلدیاتی قوانین میں آخری مرحلے پر کی جانے والی ترامیم بروقت انتخابات کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حلقہ بندیوں کا باقاعدہ آغاز یکم اگست 2026 سے ہوگا، جو 13 اکتوبر 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا۔ حلقہ بندی کمیٹی کی تربیت مکمل ہو چکی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد مطلوبہ نقشہ جات بھی فراہم کر چکے ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی دارالحکومت کے لیے لوکل گورنمنٹ کنڈکٹ آف الیکشن رولز کے مسودے پر اپنی سفارشات وزارت داخلہ اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ارسال کر دی ہیں اور مطالبہ کیا ہے کہ قواعد کو فوری طور پر نافذ کیا جائے تاکہ انتخابی مواد کی بروقت طباعت اور دیگر انتظامات مکمل کیے جا سکیں۔
پنجاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے بتایا کہ ابتدائی حلقہ بندیوں پر دائر اعتراضات کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ حلقہ بندی اتھارٹیز 7 اگست تک اپنے فیصلوں سے کمیٹی کو آگاہ کریں گی جبکہ حتمی حلقہ بندیاں 17 اگست 2026 کو شائع کی جائیں گی۔ اس کے بعد بلدیاتی انتخابات کی تاریخ کے تعین کے لیے حکومت پنجاب سے مشاورت کی جائے گی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔
خیبرپختونخوا کے بارے میں الیکشن کمیشن نے بتایا کہ صوبے کے 30 میں سے 23 اضلاع میں حلقہ بندیاں مکمل ہو چکی ہیں جبکہ باقی سات اضلاع میں یہ عمل جاری ہے۔ تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں حالیہ ترمیم کے باعث بعض قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں۔
اعلامیے کے مطابق 21 جولائی 2026 کو کی گئی ترمیم کے ذریعے ویلج کونسل اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی کی حد میں تبدیلی کر دی گئی، تاہم قانون کے نویں شیڈول میں نشستوں کی تعداد میں کوئی ردوبدل نہیں کیا گیا، جس سے قانونی ابہام پیدا ہو گیا ہے اور متعلقہ اضلاع میں نئی حلقہ بندیاں ممکن نہیں رہیں۔
الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر صوبائی حکومت کو آگاہ کیا، جس پر چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا نے نویں شیڈول میں ترمیم کے لیے تین ہفتوں کی مہلت طلب کی۔ کمیشن نے صوبائی حکومت کی درخواست منظور کرتے ہوئے مطلوبہ وقت دے دیا، تاہم واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے اس کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔
الیکشن کمیشن نے یاد دلایا کہ آئین کے آرٹیکل 140-A، آرٹیکل 219(D) اور الیکشنز ایکٹ 2017 کی دفعہ 219 کے تحت وہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے 120 دن کے اندر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ کمیشن کے مطابق اس نے متعدد مرتبہ حلقہ بندیاں مکمل کیں اور انتخابی شیڈول بھی جاری کیے، لیکن وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عین انتخابی مرحلے پر بلدیاتی قوانین میں ترامیم کر دیں، جس سے انتخابی عمل متاثر ہوا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کو یہ تجویز بھی دی تھی کہ بلدیاتی اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد قوانین یا مقامی حدود میں تبدیلی نہ کی جائے، جبکہ اگر حکومتیں نیا بلدیاتی نظام متعارف کرانا چاہیں تو اس کے لیے کم از کم ایک سال پہلے قانون سازی مکمل کر لیں تاکہ انتخابات بروقت منعقد ہو سکیں۔ تاہم کمیشن کے مطابق اس تجویز پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، جبکہ وزارت پارلیمانی امور نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون سازی پارلیمنٹ کا آئینی اختیار ہے۔