افتخار ملک کا گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی 40 کلو مقرر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم، کھاد، بیج اور بجلی سستی کرنے کا مطالبہ

لاہور, 24 اکتوبر: سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے وزیراعظم کی جانب سے آئندہ فصل کے لیے گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، ایندھن کی مہنگائی اور افراط زر کے دباؤ کا سامنا کرنے والے کسانوں کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔
اپنے ایک بیان میں افتخار علی ملک نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ کسانوں کے معاشی تحفظ اور ملکی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے، تاہم زرعی شعبے کو درپیش مشکلات کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ کھاد، معیاری بیج، ڈیزل اور بجلی سمیت بنیادی زرعی مداخل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے کسانوں کی مالی مشکلات بڑھا دی ہیں اور فصلوں کی کاشت پر آنے والی لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
افتخار علی ملک نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کھاد، معیاری بیج اور بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کرکے انہیں مناسب سطح پر لایا جائے، بالخصوص زرعی مقاصد کے لیے بجلی سستی فراہم کی جائے تاکہ زرعی شعبے کی پائیدار ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سستی زرعی مداخل نہ صرف فصلوں کی پیداوار بڑھانے بلکہ غذائی تحفظ یقینی بنانے اور کسانوں کی آمدن میں اضافے کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔
سارک چیمبر کے سابق صدر نے زور دیا کہ حکومت جامع، مستقل اور پائیدار زرعی معاونتی پالیسی مرتب کرے اور اس پر بروقت عملدرآمد یقینی بنائے۔ ان کے مطابق ایسی پالیسی سے کسان گندم کی پیداوار بڑھانے، ملکی ضروریات پوری کرنے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور قومی معیشت کے استحکام میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہوں گے۔