امریکا میں تارکین وطن کے ویزا درخواستوں کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا، ٹرمپ انتظامیہ کا امیگریشن کریک ڈاؤن مزید سخت

امریکا میں تارکین وطن کے ویزا درخواستوں کا عمل عارضی طور پر روک دیا گیا، ٹرمپ انتظامیہ کا امیگریشن کریک ڈاؤن مزید سخت
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے تارکین وطن کے ویزا درخواستوں کی کارروائی عارضی طور پر روک دی ہے، جسے امیگریشن پالیسی مزید سخت کرنے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے اگست کے آغاز میں تارکین وطن کے ویزا کیسز پر کارروائی روکنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس دوران قونصلر افسران کو درخواست گزاروں کی مزید جامع جانچ پڑتال کے حوالے سے تربیت دی جائے گی، جس میں یہ بھی جائزہ لیا جائے گا کہ آیا متعلقہ افراد مستقبل میں امریکی سرکاری امداد پر انحصار کرسکتے ہیں یا نہیں۔
اس فیصلے کے باعث پہلے سے طے شدہ بعض ویزا انٹرویوز منسوخ کردیئے گئے ہیں، جبکہ درخواست گزاروں کو انٹرویو کی نئی تاریخ اور آئندہ طریقہ کار سے متعلق بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔ امریکی حکام کے مطابق تربیت کا مقصد مختلف سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ویزا درخواستوں کی جانچ پڑتال کے طریقہ کار میں یکسانیت پیدا کرنا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی امیگریشن سے متعلق متعدد سخت اقدامات کرچکی ہے، جن میں ویزا درخواست گزاروں کی سماجی رابطوں کی سرگرمیوں کی اضافی جانچ، ویزا فیس میں اضافہ اور بعض اقسام کے ویزوں کی منسوخی شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکی حکومت تقریباً 200,000 غیر ملکی شہریوں کے کاروباری اور سیاحتی ویزے منسوخ کرنے پر بھی غور کر رہی ہے جنہوں نے امریکا میں پناہ کی درخواست دی ہے یا پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ بعض افراد عارضی ویزوں پر امریکا پہنچنے کے بعد امیگریشن نظام کو مستقل قیام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی امیگریشن کے مختلف راستوں پر نگرانی اور جانچ کا عمل مزید سخت کررہی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور امیگریشن کے حامی گروہوں نے حکومت کے ان اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے قانونی امیگریشن کے راستے محدود ہوسکتے ہیں اور درخواست گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک کا امکان بڑھ سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سخت جانچ پڑتال کا مقصد قومی سلامتی کا تحفظ، امیگریشن نظام میں شفافیت اور امریکی عوام کے مفادات کو یقینی بنانا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ پہلے ہی بعض ممالک کے شہریوں کے لیے تارک وطن ویزوں کے اجرا پر پابندیاں عائد کرچکا ہے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ تاہم موجودہ پالیسی کے تحت متعلقہ ممالک کے شہری درخواستیں جمع کراسکتے اور انٹرویو دے سکتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں ویزا جاری کرنے کا عمل معطل رہے گا۔