مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

حکومت نے مذاکرات کی گنجائش ختم کردی، لانگ مارچ کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے: مولانا فضل الرحمان

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت نے مذاکرات کی گنجائش ختم کردی ہے، حکومت کو سیاسی لب و لہجہ اختیار کرنا چاہیے، جبکہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔

مولانا فضل الرحمان نے اپوزیشن رہنماؤں، سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس اور سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سمیت دیگر رہنماؤں کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی معاملات کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں، تاہم جے یو آئی ان مذاکرات کا حصہ نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات سے متعلق ہمیں کوئی اعتراض نہیں، تاہم موجودہ صورتحال میں حکومت کی جانب سے بات چیت کی گنجائش ختم کیے جانے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کو سیاسی حوالے سے میانہ روی کی طرف لے جانے کی ضرورت ہے، سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے اور مشاورت ہونی چاہیے اور اختلافات کو سیاسی انداز میں حل کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی تجویز بھی سامنے آئی ہے، جس کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتیں اپنی اپنی قیادت سے مشاورت کریں گی، اس کے بعد مشترکہ ایجنڈے کے تحت آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

جے یو آئی سربراہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں آئین اور ریاست کے ساتھ کھڑی ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں ملک کے مفاد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہیں۔

مولانا فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ کے حوالے سے کہا کہ احتجاج سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے، اس لیے لانگ مارچ کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اختلافات کو مزید کشیدگی کی طرف لے جانے کے بجائے حکومت کو سیاسی لب و لہجہ اختیار کرنا چاہیے تاکہ ملک میں سیاسی ماحول کو معمول پر لایا جا سکے۔

واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان سے اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات اور احتجاجی تحریک کے حوالے سے سیاسی رابطوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ٹیگز: • • •
شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں