سانحہ پمز ہسپتال پر تاجر برادری رنجیدہ، اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ فوری منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ

سانحہ پمز ہسپتال پر تاجر برادری رنجیدہ، اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ فوری منظرِ عام پر لانے کا مطالبہ
اسلام آباد: آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے رہنماؤں نے پمز ہسپتال کے المناک سانحے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ہسپتال کے حفاظتی، انتظامی اور ہنگامی نظام پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
آل پاکستان انجمن تاجران اور ٹریڈرز ایکشن کمیٹی اسلام آباد کے صدر اجمل بلوچ، سیکرٹری و چیئرمین ٹریڈرز اینڈ مارکیٹ ڈویلپمنٹ کمیٹی آئی سی سی آئی خالد چوہدری سمیت مختلف مارکیٹوں کے تاجر رہنماؤں نے کہا کہ پوری تاجر برادری غم زدہ والدین اور لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے جاں بحق بچوں کے والدین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
اجمل بلوچ نے کہا کہ نومولود بچوں کی ہلاکت پر تاجر برادری شدید رنجیدہ ہے، جبکہ خالد چوہدری نے سانحے کو ہسپتال کے حفاظتی اور انتظامی نظام پر بڑا سوالیہ نشان قرار دیا۔
تاجر رہنماؤں نے کہا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے انتظامات مؤثر کیوں ثابت نہ ہوئے، فائر فائٹنگ نظام کی حالت کیا تھی، ہنگامی اخراج کے راستے قابل استعمال تھے یا نہیں اور امدادی کارروائی میں کہاں کوتاہی ہوئی۔
انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے اعلیٰ سطحی انکوائری کے حکم کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تحقیقات غیر جانب دار اور شفاف انداز میں مقررہ مدت کے اندر مکمل کی جائیں اور رپورٹ فوری طور پر منظر عام پر لائی جائے۔ انتظامی غفلت، ناقص حفاظتی انتظامات یا فرائض میں کوتاہی کے ذمہ دار افراد کو بلاامتیاز قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
راجہ ذوالفقار اور احمد خان نے مطالبہ کیا کہ غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے، جبکہ وحید چیمہ اور راجہ زاہد دھنیال نے اعلیٰ سطحی انکوائری رپورٹ فوری منظر عام پر لانے پر زور دیا۔
تاجر رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اسلام آباد کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں فائر فائٹنگ آلات، فائر الارم و آگ کی نشاندہی کے نظام، ہنگامی اخراج کے راستوں، بجلی کے نظام، طبی آلات اور عملے کی ہنگامی تربیت کا جامع حفاظتی آڈٹ کرایا جائے۔ انہوں نے ہسپتالوں میں باقاعدگی سے حفاظتی مشقیں کرانے اور واضح ایمرجنسی رسپانس پلان نافذ کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ انسانی جانوں کا تحفظ سب سے مقدم ہے، اس لیے پمز سانحے کو محض رسمی انکوائری تک محدود رکھنے کے بجائے اس کے بنیادی اسباب کا مستقل تدارک اور ہسپتالوں کے حفاظتی و انتظامی نظام میں عملی اصلاحات یقینی بنائی جائیں۔