مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،وزیراعظم شہبازشریف کا اوگرا میں اصلاحات بارے اجلاس سے خطاب

عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانا حکومت

عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ،وزیراعظم شہبازشریف کا اوگرا میں اصلاحات بارے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد۔31جولائی: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا تمام اداروں میں یکساں طور پر نفاذ یقینی بنانے اورایف بی آر کے جدید ٹریکنگ نظام کو ماڈل بنا کر ملک میں ایندھن کی آمدورفت کی کڑی نگرانی کا نظام وضع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت جمعہ کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد میں بہتری کے حوالے سے اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا تمام اداروں میں یکساں طور پر نفاذ یقینی بنایا جائے،ایف بی آر کے جدید ٹریکنگ نظام کو ماڈل بنا کر ملک میں ایندھن کی آمدورفت کی کڑی نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی و سافٹ وئیر کے استعمال کےذریعے بندرگاہوں و ریفائنریز سے پٹرول پمپس تک سپلائی چین کی ڈیجیٹل نگرانی اوراوگرا کی استعداد بڑھانے کیلئے نجی شعبے سے اچھی شہرت کے ماہرین تعینات کرنے کی بھی ہدایت کی ۔وزیراعظم نے کہا کہ اوگرا کی تنظیم نو کرکے ہر شعبے اور منصب کیلئے ماہرین کی میرٹ پر شفاف طریقہ کار سے تعیناتی کی جائے،اوگرا میں اصلاحات و تنظیمِ نو کیلئے حکومت ہر قسم کی پیشہ ورانہ مہارت فراہم کرے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عوام کی ایک ایک پائی کا تحفظ کرے گی، کسی کو عوام کے استحصال اور سسٹم میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے تمام ریگولیٹری اداروں کواپنی متعلقہ وزارتوں سے باضابطہ رابطہ قائم کرنے کیلئے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ منظور شدہ پالیسی کے تحت ملک میں قائم آئل ریفائنریز کی اپ گریڈ یشن پر کام تیز کیا جائے ۔اجلاس میں چیئرمین اوگرا نے ادارے کی موجودہ کارکردگی، درپیش چیلنجز اور جامع اصلاحاتی پروگرام پر تفصیلی بریفنگ دی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اوگرا نے تیل کی سپلائی چین کو بندرگاہ سے پٹرول پمپ تک ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مانیٹر کرنے کے لیے اہم پیش رفت کی ہے،قومی مانیٹرنگ ڈیش بورڈ، ٹینکر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم، ڈپو – ٹینک ٹیلی میٹری، راہگزر موبائل ایپ، پٹرول پمپس پر ڈیجیٹل سیلز انٹری سسٹم اور مرکزی مانیٹرنگ سیل جیسے متعدد ڈیجیٹل نظام فعال کیے جا چکے ہیں جن کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت، ذخائر اور فروخت کی موثر نگرانی ممکن بنائی جا رہی ہے۔وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا کہ جولائی 2026 کے دوران ڈیٹا پر مبنی خصوصی مہم کے نتیجے میں ذخیرہ اندوزی، سپلائی میں غیر ضروری رکاوٹوں اور دیگر خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات کی نشاندہی کی گئی جن پر شوکاز نوٹسز، وضاحت طلبی اور دیگر قانونی کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔اجلاس میں اوگرا کے جامع اصلاحاتی پروگرام پر بھی بریفنگ دی گئی جس میں ادارے کی ڈیجیٹلائزیشن، انفورسمنٹ نظام کی ازسرِنو تشکیل، کمپلائنس ونگ کے قیام، لائسنسنگ نظام میں اصلاحات، قانونی امور کے موثر انتظام، مالی وسائل کی مضبوطی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کی تنظیمِ نو شامل ہے ۔ وزیر اعظم نے اوگرا کی جانب سے پیش کیے گئے اصلاحاتی پروگرام کو سراہتے ہوئے ہدایت کی کہ تیل و گیس کے شعبے میں مکمل شفافیت، موثر نگرانی، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خاتمے کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو ایندھن کی بلاتعطل فراہمی اور منصفانہ قیمتوں کی یقینی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی قسم کی غفلت یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ اوگرا کی اصلاحات اور ادارہ جاتی استعداد میں اضافے کے لیے درکار قانونی، انتظامی اور پالیسی اقدامات پر ترجیحی بنیادوں پر پیش رفت یقینی بنائی جائے تاکہ ریگولیٹری نظام کو مزید موثر، شفاف اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، عطاء اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، معاون خصوصی طارق باجوہ اور متعلقہ اعلٰی حکام نے شرکت کی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں