لاکھوں افریقی شہریوں کو شینجن میں آزادانہ سفر کی سہولت سے محرومی کا خدشہ

لاکھوں افریقی شہریوں کو شینجن میں آزادانہ سفر کی سہولت سے محرومی کا خدشہ
پیرس/برسلز: یورپ میں غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے بحران کے باعث شینجن زون میں غیر یورپی شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت محدود کرنے کی بحث زور پکڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں یورپی ممالک میں مقیم لاکھوں افریقی شہری بھی شینجن کے اندر آزادانہ سفر کی موجودہ سہولت سے محروم ہو سکتے ہیں۔
یورپ میں یہ بحث اسپین میں غیر قانونی تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مراکش سے تقریباً 49 ہزار تارکین وطن کے اسپین پہنچنے کی اطلاعات کے بعد یورپ میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی ہجرت کے حوالے سے سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔
فرانس کی صدارتی امیدوار میرین لے پین نے بھی فرانس کی جانب سے اپنی سرحدوں پر فوری طور پر کنٹرول سخت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مستقبل میں شینجن زون میں آزادانہ نقل و حرکت کو صرف یورپی یونین کے شہریوں تک محدود کیا جانا چاہیے۔
اگر ایسی تجاویز کو یورپ بھر میں وسیع پیمانے پر نافذ کیا گیا تو اس کے اثرات ان لاکھوں غیر یورپی شہریوں پر پڑ سکتے ہیں جو یورپی یونین کے رکن ممالک میں قانونی طور پر مقیم ہیں اور رہائشی اجازت ناموں، ورک پرمٹس، طلبہ کی حیثیت یا خاندانی بنیادوں پر شینجن زون کے اندر نسبتاً آزادانہ سفر کرتے ہیں۔
شینجن ایریا میں شامل بیشتر یورپی ممالک کے درمیان معمول کے حالات میں اندرونی سرحدوں پر پاسپورٹ چیک کے بغیر سفر کی سہولت حاصل ہے، تاہم غیر یورپی شہریوں کے لیے اس نظام تک رسائی ان کے ویزا اور رہائشی حیثیت سے مشروط ہوتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق افریقی شہری پہلے ہی شینجن ویزا کے حصول میں دنیا کی بلند ترین مسترد ہونے والی درخواستوں کی شرح کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2024 میں افریقی درخواست گزاروں کی مسترد ہونے والی شینجن ویزا درخواستوں پر تقریباً 60 ملین یورو کی ناقابل واپسی فیس ضائع ہوئی۔
شینجن ویزا مسترد ہونے کی شرح کے حوالے سے چھ افریقی ممالک دنیا کے 10 بدترین ممالک میں شامل ہیں۔ کوموروس میں ویزا مسترد ہونے کی شرح 61.3 فیصد، گنی بساؤ میں 51 فیصد، گھانا میں 47.5 فیصد، مالی میں 46.1 فیصد، سوڈان میں 42.3 فیصد اور سینیگال میں 41.2 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق مراکش نے 2023 میں 591,401 شینجن ویزا درخواستیں جمع کرائیں، جو دنیا میں کسی بھی ملک کی جانب سے چوتھی سب سے زیادہ درخواستیں تھیں۔ الجزائر 474,032 درخواستوں کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا، جبکہ جنوبی افریقہ، تیونس اور نائیجیریا بھی بڑی تعداد میں شینجن ویزا درخواستیں جمع کرانے والے ممالک میں شامل رہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقہ سے یورپ کی جانب نقل مکانی کا رجحان مستقبل میں بھی بڑھنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادی میں اضافے، معاشی عدم مساوات، تنازعات اور حکمرانی کے مسائل کے باعث 2050 تک افریقہ کی سرحد پار مہاجر آبادی 11 سے 12 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔
تاہم شینجن میں آزادانہ نقل و حرکت کو صرف یورپی یونین کے شہریوں تک محدود کرنے کی تجویز فی الحال سیاسی مطالبہ ہے، یورپی یونین کی باضابطہ پالیسی نہیں۔ اس کے باوجود اس بحث نے افریقی حکومتوں، کاروباری حلقوں اور یورپ میں مقیم افریقی تارکین وطن میں تشویش پیدا کر دی ہے۔