مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ پیپلز پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی میں اٹھایا جائے گا، آئینی طریقہ کار کی اپنانا ہو گا، نیئر بخاری

نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ پیپلز پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی میں اٹھایا

نئے انتظامی یونٹس کا معاملہ پیپلز پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی میں اٹھایا جائے گا، آئینی طریقہ کار کی اپنانا ہو گا، نیئر بخاری

اسلام آباد، 31 جولائی: پاکستان پیپلز پارٹی نے ملک میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق معاملہ اپنی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی (CEC) کے اجلاس میں زیر غور لانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کرنے میں سنجیدگی ہے تو اس کے لیے آئین میں موجود طریقہ کار پر عمل کیا جانا چاہیے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نیئر حسین بخاری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام کسی انتظامی حکم کے بجائے آئینی تقاضے پورے کرکے اور پارلیمنٹ کے ذریعے عمل میں لایا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر جنوبی پنجاب سمیت نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے واقعی سنجیدگی موجود ہے تو حکومت اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لائے اور آئین کے مطابق ضروری کارروائی مکمل کرے۔

انہوں نے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف پر زور دیا کہ چونکہ ان کی جماعت پنجاب اور وفاق دونوں میں برسرِ اقتدار ہے، اس لیے وہ پنجاب سے نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے عمل کا آغاز کریں۔ نیئر بخاری نے یاد دلایا کہ جنوبی پنجاب کے صوبے سے متعلق ایک قرارداد پہلے ہی پنجاب اسمبلی میں زیر التوا ہے، جسے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ وفاقی وزرا اس معاملے کو پہلے وفاقی کابینہ میں پیش کریں اور کابینہ کی منظوری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اس اہم قومی معاملے پر پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے باضابطہ مشاورت کریں۔ ان کے مطابق ایسے فیصلوں کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان اتفاق رائے ناگزیر ہے۔

نیئر بخاری نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی ملک میں انتظامی اصلاحات اور عوام کو بہتر طرزِ حکمرانی کی فراہمی کی حامی ہے، تاہم نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کا قیام صرف آئین اور جمہوری عمل کے مطابق ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی اس اہم قومی معاملے پر تفصیلی غور کرے گی اور اپنی آئینی و سیاسی پوزیشن طے کرے گی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں