پاکستان ریلوے کی جدید کاری، ترکیہ سے تعاون کے نئے امکانات، ترک کمپنیوں کو بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت

پاکستان ریلوے کی جدید کاری، ترکیہ سے تعاون کے نئے امکانات، ترک کمپنیوں کو بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت
اسلام آباد، 31 جولائی: وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اپنے دو روزہ سرکاری دورۂ ترکیہ کے دوران ترک کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن (TCA) کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کی، جس میں پاکستان ریلوے کی جدید کاری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران پاکستان ریلوے کے جاری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں میں ترک کمپنیوں کی شمولیت کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں فریقین نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP)، بلڈ، آپریٹ اینڈ ٹرانسفر (BOT)، انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اینڈ کنسٹرکشن (EPC) سمیت مختلف جدید ماڈلز کے تحت تعاون اور سرمایہ کاری کے مواقع پر غور کیا۔
وفاقی وزیر ریلوے نے ترک کمپنیوں کو پاکستان ریلوے کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ریلوے کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے بین الاقوامی تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتی ہے۔
ملاقات میں مین لائن ون (ML-1) منصوبے کے آئندہ مراحل میں ترک کمپنیوں کی تکنیکی مہارت سے فائدہ اٹھانے، جبکہ مین لائن تھری (ML-3) کی جدید کاری میں بھی تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
دونوں فریقین نے اسلام آباد، تہران، استنبول (ITI) فریٹ کوریڈور کی بحالی کے لیے درکار ریلوے انفراسٹرکچر اور لاجسٹکس تعاون کا بھی جائزہ لیا۔ اس موقع پر اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئی ٹی آئی فریٹ کوریڈور کی بحالی سے پاکستان، ایران اور ترکیہ کے درمیان علاقائی تجارت، ٹرانزٹ اور معاشی روابط کو نئی رفتار ملے گی۔
ملاقات میں ازبکستان، افغانستان اور پاکستان ریلوے کوریڈور کے منصوبے میں ترک کمپنیوں کی ممکنہ شمولیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ پاکستان ریلوے کے اسٹیشنز، فریٹ ٹرمینلز اور لاجسٹکس پارکس میں سرمایہ کاری کے مواقع بھی زیر بحث آئے۔
فریقین نے ریلوے انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ کمرشل ڈویلپمنٹ، لاجسٹکس اور ویلیو ایڈڈ منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیا۔ ترک کمپنیوں کو پاکستان میں جوائنٹ وینچرز اور طویل المدتی شراکت داری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت بھی دی گئی۔
محمد حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان ریلوے میں ٹیکنالوجی ٹرانسفر، مقامی سطح پر مسافر کوچز، فریٹ ویگنز اور دیگر ریلوے آلات کی تیاری کے لیے ترک مہارت سے استفادہ کیا جائے گا، جس سے پاکستان ریلوے کی مینوفیکچرنگ اور انجینئرنگ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑے انفراسٹرکچر منصوبے مکمل کرنے میں ترک کمپنیوں کا وسیع تجربہ پاکستان ریلوے کی جدید کاری کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت پاکستان ریلوے کو جدید، محفوظ، مؤثر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ریلوے کے شعبے میں تعاون کو صرف انفراسٹرکچر تک محدود رکھنے کے بجائے سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں، تکنیکی تعاون، تربیت اور تجربات کے تبادلے تک وسعت دی جائے گی۔
وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ ترک کمپنیوں کی شمولیت سے پاکستان ریلوے میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو عملی اقتصادی منصوبوں میں تبدیل کرنے میں بھی مدد ملے گی۔