مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان کے ہر گاؤں تک تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانے کا فیصلہ، قومی کنیکٹیویٹی پلان جلد مکمل ہوگا

پاکستان کے ہر گاؤں تک تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانے کا فیصلہ، قومی کنیکٹیویٹی

پاکستان کے ہر گاؤں تک تیز رفتار انٹرنیٹ پہنچانے کا فیصلہ، قومی کنیکٹیویٹی پلان جلد مکمل ہوگا

اسلام آباد، 31 جولائی: وفاقی حکومت نے ملک کے چھوٹے دیہات، دوردراز علاقوں اور پسماندہ خطوں تک تیز رفتار اور کم لاگت انٹرنیٹ کی فراہمی کو قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے مجوزہ قومی کنیکٹیویٹی پلان کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے ڈیجیٹل خلیج کم ہوگی، فری لانسرز، ای کامرس سے وابستہ افراد اور نوجوانوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ فائبر آپٹک اور فائیو جی انفراسٹرکچر کی توسیع کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیر صدارت قومی کنیکٹیویٹی پلان سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ، متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر کے دیہی علاقوں، دورافتادہ خطوں اور چھوٹے شہروں تک تیز رفتار انٹرنیٹ کی رسائی یقینی بنانے، ڈیجیٹل شمولیت بڑھانے اور معیشت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احد چیمہ نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ایسے فری لانسرز، آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد اور ڈیجیٹل شعبوں میں کام کرنے والے نوجوانوں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا ہے جو ناقص یا سست انٹرنیٹ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر شہری تک معیاری اور سستی انٹرنیٹ سہولت پہنچانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گی تاکہ ملک بھر کے لوگ ڈیجیٹل معیشت سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔

اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فائبر ٹو دی ہوم (FTTH) نیٹ ورکس اور فائیو جی انفراسٹرکچر مستقبل کی معیشت، روزگار کے نئے مواقع اور ملک گیر ڈیجیٹل ترقی میں بنیادی کردار ادا کریں گے۔

شرکاء کو بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت فائبر ٹو دی ہوم صارفین کی تعداد تقریباً 28 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جبکہ ملک بھر میں 2 لاکھ 34 ہزار کلومیٹر فائبر نیٹ ورک، 51 لاکھ ہاؤس پاسز اور چھ فعال سب میرین کیبلز موجود ہیں، جو قومی ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید مستحکم بنا رہے ہیں۔

اجلاس میں قومی کنیکٹیویٹی پلان کے تحت مستقبل کے اہداف بھی پیش کیے گئے، جن میں ہاؤس پاسز کی تعداد ایک کروڑ تک بڑھانا، فکسڈ براڈبینڈ کی اوسط ڈاؤن لوڈ رفتار 85 ایم بی پی ایس تک پہنچانا، براڈبینڈ کارکردگی کے لحاظ سے پاکستان کو دنیا کے بہترین 50 ممالک میں شامل کرنا اور ٹیلی کام ٹاورز کی فائبرائزیشن 60 فیصد تک بڑھانا شامل ہے۔

اجلاس میں دوردراز علاقوں کے انٹرنیٹ صارفین کے لیے ہدفی ٹیکس ریلیف، رائٹ آف وے فیس کے خاتمے، سنگل ونڈو منظوری پورٹل کے قیام، ضلعی سطح پر لائسنسنگ کے نظام اور سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور صحت کی سہولیات میں فکسڈ براڈبینڈ کنیکٹیویٹی کو لازمی بنانے سمیت متعدد اہم اصلاحات پر بھی غور کیا گیا۔

وفاقی وزیر احد چیمہ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت مکمل کرکے قومی کنیکٹیویٹی پلان کو جلد حتمی شکل دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مرحلہ وار حکمت عملی، مؤثر ریگولیٹری اصلاحات، ٹیلی کام آپریٹرز کی واضح ذمہ داریوں اور کارکردگی سے مشروط مالی معاونت کے ذریعے ملک بھر میں فائبر نیٹ ورک کی توسیع کو تیز کیا جائے گا، جبکہ عوامی وسائل کے مؤثر استعمال اور منصوبے کی طویل المدتی پائیداری کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں