چیمبرز اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے انتخابات کو شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد انداز میں منعقد کیا جائے، وفاقی وزیر تجارت کی ڈی جی ٹی او کو ہدایت

چیمبرز اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے انتخابات کو شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد انداز میں منعقد کیا جائے، وفاقی وزیر تجارت کی ڈی جی ٹی او کو ہدایت
اسلام آباد۔31جولائی: وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ ملک گیر چیمبرز آف کامرس اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے انتخابات کو مضبوط نگرانی، ڈیجیٹلائزیشن اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے شفاف، منصفانہ اور قابلِ اعتماد انداز میں منعقد کیا جائے۔ جمعہ کو وزارت سے جاری بیان کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ٹریڈ آرگنائزیشنز بلال خان پاشا سے 2026–28 کے تجارتی اداروں کے انتخابات کی تیاریوں پر تفصیلی بریفنگ حاصل کرنے کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت تجارتی اداروں کے انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے کے لئے پُرعزم ہے کہ انتخابی عمل شفافیت، جوابدہی اور انصاف کے اعلیٰ ترین معیارات کی عکاسی کرے۔ جام کمال خان نے کہا کہ پارلیمنٹ کی جانب سے ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ میں ترامیم کی منظوری کے بعد ضابطہ جاتی فریم ورک کو مؤثر بنانے اور تجارتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے اہم اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ تجارت، ڈی جی ٹی او کو اس کے آپریشنز کو جدید اور ڈیجیٹل بنانے کے لئے مکمل ادارہ جاتی معاونت فراہم کر رہی ہے تاکہ وہ انتخابات کے دوران اور اس کے بعد بھی چیمبرز اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز کو زیادہ مؤثر انداز میں سہولت فراہم کر سکے۔جام کمال نے ڈی جی ٹی او کو ہدایت کی کہ انتخابی انتظام کے ڈیجیٹل نظام کو تیز رفتاری سے فروغ دیا جائے جس کے لئے وزارت کی ویب سائٹ پر ایک مخصوص انتخابی پورٹل قائم کیا جائے جس میں انتخابی شیڈول، متعلقہ قوانین و قواعد، نوٹیفکیشنز، ووٹر فہرستیں، انتخابی نتائج اور دیگر متعلقہ معلومات سٹیک ہولڈرز کے لئے دستیاب ہوں۔ انہوں نے ڈی جی ٹی او کو یہ بھی ہدایت دی کہ ملک بھر میں انتخابی سرگرمیوں کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لئے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا جائے اور تمام تجارتی اداروں کو ہدایت کی کہ وہ انتخابی شیڈول، ووٹر فہرستیں اور انتخابی نتائج سافٹ کاپی کی صورت میں جمع کرائیں تاکہ مؤثر ڈیجیٹل انتظام اور نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔شفافیت اور معلومات تک مساوی رسائی پر زور دیتے ہوئے وزیر نے ہدایت کی کہ حتمی ووٹر فہرستیں ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ اور قواعد کے مطابق شائع کی جائیں اور جامع معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) جاری کئے جائیں تاکہ تمام تجارتی اداروں میں انتخابی طریقہ کار پر یکساں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔جام کمال خان نے کہا کہ پہلی مرتبہ ڈی جی ٹی او کو انتخابی نگرانی کے لئے اضافی افرادی قوت فراہم کی گئی ہے۔ وزارتِ تجارت، ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان، سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن اور دیگر سرکاری اداروں کے افسران انتخابات کے دوران آزاد مبصرین اور گواہوں کے طور پر خدمات انجام دیں گے تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے اور بعد ازاں موصول ہونے والی شکایات یا اپیلوں کے لئے قابلِ اعتماد دستاویزی شواہد فراہم کئے جا سکیں۔وزیر تجارت نے کہا کہ وزارت صوبائی حکام کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ان بڑے پولنگ مقامات پر، جہاں ووٹرز کی زیادہ تعداد متوقع ہے، مناسب انتظامی اور سکیورٹی معاونت کو یقینی بنایا جا سکے تاکہ انتخابی ماحول پُرامن اور منظم رہے۔ انہوں نے چیمبرز اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مضبوط نگرانی کے نظام اور ڈیجیٹل ذرائع کے زیادہ استعمال کے ذریعے اپنے اندرونی انتخابی انتظامی نظام کو جدید بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ شفاف اور مکمل دستاویزی انتخابی عمل، انتخابات کے بعد پیدا ہونے والے تنازعات اور اپیلوں میں نمایاں کمی لائے گا۔اس سے قبل، ڈی جی ٹی او بلال خان پاشا نے وزیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ چیمبرز آف کامرس اور ٹریڈ ایسوسی ایشنز کے انتخابات کا عمل شروع ہو چکا ہے اور یہ 30 ستمبر 2026 تک جاری رہے گا جبکہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے انتخابات یکم اکتوبر سے شروع ہو کر 31 دسمبر 2026 تک مکمل ہوں گے۔ انہوں نے آگاہ کیا کہ تقریباً 380 رجسٹرڈ تجارتی ادارے ڈی جی ٹی او کے ضابطہ جاتی دائرہ کار میں آتے ہیں جن میں سے 320 اداروں میں اس سال انتخابات منعقد کئے جائیں گے۔ڈی جی ٹی او نے وزیر کو مکمل انتخابی عمل پر بھی بریفنگ دی جس میں ووٹر فہرستوں کی تیاری، کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال، انتخابی کمیشنوں کی تشکیل، بیلٹ پیپرز کا انتظام، پولنگ کے انتظامات، نگرانی کے طریقہ کار، تنازعات کے حل کے طریقہ کار اور انتخابات کے بعد اپیلوں کا عمل شامل تھا۔ انہوں نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ تربیت یافتہ انتخابی مبصرین کی تعیناتی، معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) کی تیاری، پولنگ اور ووٹوں کی گنتی کی بہتر دستاویز بندی اور جہاں ضرورت ہو متعلقہ اداروں کے ساتھ مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے شفافیت کو مضبوط بنانے کے لئے جامع انتظامات کئے گئے ہیں۔ وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے حکام کو ہدایت کی کہ وہ مکمل غیر جانبداری برقرار رکھیں، ٹریڈ آرگنائزیشنز ایکٹ اور قواعد پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں اور ملک بھر میں آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد میں بھرپور سہولت فراہم کریں۔ انہوں نے 2026–28 کے تجارتی اداروں کے انتخابات میں حصہ لینے والے تمام چیمبرز، ٹریڈ ایسوسی ایشنز، امیدواروں اور ووٹرز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پورا انتخابی عمل پُرامن، شفاف اور باہمی تعاون کے جذبے کے ساتھ مکمل ہوگا۔