پارلیمان کی مضبوطی اور آئین کی بالادستی روشن پاکستان کی ضمانت ہے

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ دستور ساز اسمبلی کا قیام پاکستان کی قومی و پارلیمانی تاریخ کا ایک تاریخی سنگِ میل تھا، جس نے ملک میں آئینی، جمہوری اور پارلیمانی نظام کی مضبوط بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمانی جمہوریت ریاست پاکستان کا اساس ہے جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ پارلیمان پاکستان 10 اگست کو معرض وجود میں آیا جبکہ مملکت پاکستان کا قیام اسی پارلیمان میں 14 اگست 1947 کو ہوا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور پارلیمانی روایات کا فروغ، قومی یکجہتی، ملکی استحکام، پائیدار ترقی اور عوامی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار دستور ساز اسمبلی کے قیام کی 79 ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کیا۔
پارلیمانی نظام اور جمہوری اقدار کی اہمیت
قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے اتوار کو جاری پریس ریلیز کے مطابق سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ 10 اگست 1947 کو کراچی میں منعقد ہونے والا دستور ساز اسمبلی کا پہلا اجلاس بانیانِ پاکستان کے جمہوری وژن کی عملی تعبیر تھا، جس نے آئین سازی، قانون سازی اور پارلیمانی نظام کی بنیاد رکھ کر ایک جدید، جمہوری ریاست کی تشکیل کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی دن ہمیں آئینی اداروں کے احترام، جمہوری اقدار کے فروغ اور عوامی نمائندگی کے تقدس کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پارلیمان کی مضبوطی، آئین کی بالادستی اور جمہوری عمل کا تسلسل ہی ایک مستحکم اور روشن پاکستان کی بنیاد ہے۔
نوجوانوں میں جمہوری شعور اور ٹیکنالوجی کا فروغ
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں میں موثر کردار ادا کرنے کے لئے نوجوان نسل کو پاکستان کے آئینی ارتقاء، پارلیمانی تاریخ اور جمہوری روایات سے روشناس کرانا ضروری ہے۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمان عوام کی امنگوں کا ترجمان ادارہ ہے، جو مؤثر، بروقت اور عوام دوست قانون سازی کے ذریعے عوام کو درپیش مسائل کا حل یقینی بناتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پارلیمان قانون سازی کو مزید مؤثر بنانے اور پارلیمانی کارروائی میں شفافیت کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر بھی ہم جمہوری اداروں کو مستحکم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے تمام سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے باہمی احترام، مکالمے، برداشت اور اتفاقِ رائے کی پارلیمانی روایت کو فروغ دیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ عوام تک معلومات کی بروقت رسائی، ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافے اور پارلیمانی امور میں جدت لانے کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی پارلیمان 2015 سے مکمل طور پر شمسی توانائی پر منتقل ہو چکی ہے، جو ماحول دوست پالیسیوں اور توانائی کے مؤثر استعمال کے عزم کا مظہر ہے۔
ڈپٹی سپیکر کا پیغام
اس موقع پر ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ دستور ساز اسمبلی کے قیام کی سالگرہ بانیانِ پاکستان کے جمہوری وژن، آئینی اصولوں اور عوامی خدمت کے عزم کی تجدید کا دن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمان وفاق کی علامت، قومی وحدت کا مظہر اور عوام کی اجتماعی آواز ہے۔ پارلیمانی کمیٹیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شفاف طرزِ حکمرانی اور مضبوط جمہوری ادارے ایک مستحکم، پرامن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہیں، اور پارلیمان اس قومی مقصد کے حصول کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں بھرپور طریقے سے ادا کرتی رہے گی۔