مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان کو 2040 تک معاشی اہداف کے حصول کے لیے منصوبہ بندی

پاکستان کو 2040 تک معاشی اہداف کے حصول کے لیے منصوبہ بندی

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایٹیشن فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے ایک مشترکہ بیان میں 2040ء تک پاکستان کی آبادی 40 کروڑ تک پہنچنے کے تخمینے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں ملک کی موجودہ معاشی ترقی کی رفتار انتہائی سست ہے اور ملک کو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنی پالیسیوں میں فوری تبدیلی لانا ہوگی۔

معیشت کی ترقی کا ہدف

پیاف کے رہنماؤں نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت کو آئندہ برسوں میں کم از کم 6 سے 7 فیصد سالانہ حقیقی شرح نمو حاصل کرنا ہوگی تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار، تعلیم، صحت، رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ممکن بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ٹیکسوں کی بھرمار اور غیر متوازن معاشی پالیسیوں کے باوجود برآمدات، صنعتی پیداوار، سرمایہ کاری اور ٹیکس وصولی میں غیر معمولی اضافہ کیے بغیر ترقی کا حصول ممکن نہیں ہے۔

ورلڈ بینک کے اعدادوشمار اور معاشی چیلنجز

بیان میں مزید کہا گیا کہ ورلڈ بینک کے مطابق 2025ء میں پاکستان کی جی ڈی پی تقریباً 407 ارب ڈالر اور فی کس آمدن تقریباً 1596 ڈالر رہی جبکہ معاشی ترقی کی شرح 3.7 فیصد تھی، جو آبادی میں اضافے کے دباؤ کے پیش نظر ناکافی ہے۔ اگر 2040ء تک آبادی 40 کروڑ تک پہنچتی ہے تو صرف موجودہ فی کس آمدن کو برقرار رکھنے کے لیے بھی معیشت کا حجم تقریباً 640 ارب ڈالر تک لے جانا ہوگا، جبکہ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ اقدامات درکار ہیں۔

فی کس آمدن میں اضافے کی ضرورت

رہنماؤں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کو فی کس آمدن 5 سے 6 ہزار ڈالر تک پہنچانا ہے تو معیشت کا مجموعی حجم 2 کھرب سے 2.4 کھرب ڈالر تک ہونا ضروری ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے صنعتی پیداواری صلاحیت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہے۔ پیاف کے عہدیداران نے حکومت پر زور دیا کہ وہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو معاشی بوجھ بننے سے بچانے کے لیے انہیں ہنر مند بنائے اور طویل المدتی پالیسیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کے لیے بحران کے بجائے ترقی کا ذریعہ بن سکے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں