مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پینٹاگون نے اپنے اخبار کے پبلشر، چیف ایڈیٹر اور رپورٹر کو حکم عدولی پر برطرف کر دیا

پینٹاگون نے اپنے اخبار کے پبلشر، چیف ایڈیٹر اور رپورٹر کو حکم عدولی پر برطرف کر دیا

پینٹاگون نے اپنے اخبار کے پبلشر، چیف ایڈیٹر اور رپورٹر کو حکم عدولی پر برطرف کر دیا

واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے فوجی اخبار اسٹارز اینڈ اسٹرائپس (Stars and Stripes) کے پبلشر میکس لیڈرر، چیف ایڈیٹر ایرک سلاوِن اور مشرق وسطیٰ کی رپورٹر لارا کورت کو حکم عدولی کے الزام میں عہدوں سے برطرف کردیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق تینوں کو 21 اگست کو برطرفی کے نوٹس جاری کیے گئے اور اپنے خلاف کیے گئے فیصلے پر اپیل کے لیے پانچ دن کی مہلت دی گئی ہے۔

چیف ایڈیٹر ایرک سلاوِن اور مشرق وسطیٰ کی رپورٹر لارا کورت کے خلاف کارروائی کا تعلق گزشتہ ماہ سی بی ایس نیوز کے پروگرام ’CBS Sunday Morning‘ میں ان کی شرکت سے بتایا گیا ہے۔ دونوں نے پروگرام میں اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کی ادارتی آزادی اور پینٹاگون کی جانب سے اخبار کی تنظیم نو کے منصوبوں پر بات کی تھی۔

سلاوِن کے مطابق ان کے برطرفی کے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انہیں سی بی ایس کو دیے گئے انٹرویو میں اس مؤقف کا اظہار کرنے پر حکم عدولی کے الزام میں برطرف کیا گیا کہ فوجی اہلکاروں کے لیے شائع ہونے والی خبروں پر سنسرشپ عائد کرنا ایک ’ریڈ لائن‘ ہوگی۔

سلاوِن نے کہا کہ پینٹاگون کے شعبہ تعلقات عامہ نے ان پر حکم عدولی کا الزام عائد کیا ہے، تاہم وہ اس مؤقف پر قائم ہیں کہ اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کو اپنی ادارتی آزادی برقرار رکھنی چاہیے۔

لارا کورت نے بھی اپنی برطرفی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پینٹاگون کی جانب سے حکم عدولی کے الزام میں عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ان کے مطابق سی بی ایس کے رپورٹر سے گفتگو کے دوران انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے لیے کام کرتی ہیں، پینٹاگون، کسی انتظامیہ یا کسی پالیسی ساز کے لیے نہیں۔

کورت نے برطرفی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی اہلکار آئین کے دفاع کا حلف اٹھاتے ہیں اور انہیں آزاد اور خودمختار پریس کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب پبلشر میکس لیڈرر کی برطرفی کا معاملہ پینٹاگون کے ساتھ ان کے اختلافات سے جوڑا جا رہا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق لیڈرر نے محکمہ دفاع کی قیادت کی جانب سے بعض صحافیوں کے خلاف کارروائی کی ہدایات پر عمل کرنے سے انکار کیا تھا۔

لیڈرر، جو پہلے ہی 30 ستمبر کو ریٹائر ہونے کا منصوبہ ظاہر کرچکے تھے، کو ریٹائرمنٹ سے قبل ہی عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کئی دہائیوں سے امریکی فوجی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کے لیے خبریں فراہم کرنے والا اہم ادارہ ہے۔ اخبار کو محکمہ دفاع سے مالی معاونت حاصل ہے، تاہم اسے طویل عرصے سے ادارتی آزادی کے ساتھ فوجی اہلکاروں کے لیے خبریں شائع کرنے والے ادارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔

حالیہ مہینوں میں پینٹاگون اور اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے درمیان اخبار کی ادارتی پالیسی، تنظیم نو اور مستقبل کے کردار کے حوالے سے اختلافات میں اضافہ ہوا ہے۔ پینٹاگون نے اخبار کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور اس کے مواد کو زیادہ واضح طور پر فوجی معاملات پر مرکوز کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں۔

محکمہ دفاع کے منصوبے کے تحت اخبار میں جنگی کارروائیوں، ہتھیاروں کے نظام، جسمانی فٹنس، جنگی تیاری اور فوجیوں کی بقا جیسے موضوعات کو زیادہ اہمیت دینے کی بات کی گئی تھی، جبکہ بعض دیگر موضوعات کو فوجی اہلکاروں کے لیے غیر ضروری توجہ کا باعث قرار دیا گیا تھا۔

پینٹاگون اور اخبار کے درمیان اختلافات اس وقت بھی نمایاں ہوئے جب اسٹارز اینڈ اسٹرائپس نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات اہلکاروں کے حالات سے متعلق رپورٹنگ کی۔ اخبار نے اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے ان کے ذہنی دباؤ اور فلاح و بہبود سے متعلق خدشات کو بھی رپورٹ کیا تھا۔

پینٹاگون کے ترجمان نے تینوں کی برطرفی پر براہ راست تفصیلی مؤقف دینے کے بجائے اخبار کے عسکری امور سے متعلق نائب پبلشر کیپٹن ولیم اربن کے ایک کھلے خط کا حوالہ دیا۔ اربن نے اخبار کو جدید میڈیا ماحول سے ہم آہنگ کرنے، ڈیجیٹل مواد کو وسعت دینے اور آمدنی میں اضافے کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا، تاہم ادارتی معیار اور آزاد رپورٹنگ جاری رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

تینوں اہلکاروں کی برطرفی کے بعد امریکی فوجی صحافت میں ادارتی آزادی اور محکمہ دفاع کی انتظامی نگرانی کے درمیان توازن کے حوالے سے بحث ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ اقدام پینٹاگون اور اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں