شام میں بشار الاسد کے زوال کے بعد وطن لوٹنے والے لاکھوں افراد کو مشکلات کا سامنا

شام میں بشار الاسد کے زوال کے بعد وطن لوٹنے والے لاکھوں افراد کو مشکلات کا سامنا
دمشق: بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اپنے وطن واپس آنے والے لاکھوں شامی شہریوں کو معمول کی زندگی بحال کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ جنگ سے تباہ شدہ رہائش گاہیں، بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی، بجلی کی طویل بندش، روزگار کے محدود مواقع اور کم آمدنی نے وطن واپسی کو توقعات کے برعکس ایک مشکل تجربہ بنا دیا ہے۔
یورو نیوز کے مطابق دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اب تک تقریباً 36 لاکھ شامی اپنے آبائی علاقوں میں واپس جا چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 کے اختتام تک تقریباً 16 لاکھ 70 ہزار شامی پڑوسی ممالک سے وطن واپس آئے، جبکہ تقریباً 19 لاکھ 20 ہزار اندرونِ ملک بے گھر افراد بھی اپنے علاقوں میں واپس لوٹے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واپس آنے والے شامی شہریوں کے حالات یکساں نہیں۔ کچھ افراد اپنے آبائی علاقوں میں نئی زندگی شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم معاشی مشکلات کے باعث بعض واپس آنے والے دوبارہ ملک چھوڑنے پر بھی غور کر رہے ہیں۔
ترکی سے شام واپس آنے والے ایک شہری کے مطابق وہ ترکی میں ماہانہ تقریباً ایک ہزار ڈالر کما رہا تھا، لیکن شام واپسی کے بعد اس کی ماہانہ آمدنی 250 سے 300 ڈالر تک رہ گئی۔ اس کے ایک ساتھی نے، جو مصر سے واپس آیا، بتایا کہ اپنے خاندانی گھر میں رہائش کے باعث اسے کرایہ ادا نہیں کرنا پڑتا، اس لیے کم آمدنی کے باوجود اسے وطن واپسی پر پچھتاوا نہیں۔
رپورٹ کے مطابق شام میں طویل جنگ نے ملک کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا ہے۔ عالمی بینک کے اندازے کے مطابق جنگ کے نتیجے میں شام کو تقریباً 108 ارب ڈالر کا براہِ راست جسمانی نقصان پہنچا، جبکہ ملک کی تعمیر نو کے لیے تقریباً 216 ارب ڈالر درکار ہوں گے، جو 2024 میں شام کی مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً 10 گنا کے برابر ہے۔
وطن واپس آنے والے شہریوں کو تباہ یا شدید متاثرہ گھروں، کمزور شہری انتظامی نظام، بجلی کی مسلسل بندش اور رسمی روزگار کے محدود مواقع جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کئی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث معمولات زندگی کی مکمل بحالی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
یورو نیوز کے مطابق بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد بڑی تعداد میں شامی شہری اس امید پر وطن واپس آئے کہ ملک کے حالات بہتر ہوں گے، تاہم جنگ کے تباہ کن اثرات، معاشی بحران اور بنیادی سہولیات کی کمی نے ان کی واپسی کو آسان بنانے کے بجائے ایک پیچیدہ صورتحال میں تبدیل کر دیا ہے۔