ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی 10 کھرب روپے سے بڑھ کرگئی: افتخار علی ملک

ایس ایم ایز کو قرضوں کی فراہمی 10 کھرب روپے سے بڑھ کرگئی: افتخار علی ملک
لاہور، 23 اگست: سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ دانشمندانہ معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں اور مالی سال 2026 کے دوران چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو قرضوں کی فراہمی پہلی بار ایک ٹریلین یعنی 10 کھرب روپے سے تجاوز کرگئی ہے، جو گزشتہ مدت کے مقابلے میں 37 فیصد اضافہ ہے۔ اتوار کو ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کی فنانسنگ میں نمایاں اضافہ معیشت کے لیے مثبت پیش رفت ہے، کیونکہ یہ شعبہ روزگار، کاروباری سرگرمیوں، جدت اور معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرضوں کی دستیابی میں اضافے سے مالیاتی اداروں کا ایس ایم ایز پر اعتماد ظاہر ہوتا ہے اور اس سے کاروباری اداروں کو توسیع، پیداواری سہولیات کو جدید بنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ ایس ایم ایز کو سستے قرضوں، آسان ٹیکس نظام، ڈیجیٹل بینکاری، تکنیکی معاونت اور سازگار کاروباری ماحول سمیت مسلسل پالیسی تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ چھوٹے کاروباروں، اسٹارٹ اپس اور نئے کاروباری افراد کے لیے قرضوں کے طریقہ کار کو مزید آسان اور لچکدار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فنانسنگ تک بہتر رسائی سے مزید کاروبار دستاویزی معیشت کا حصہ بنیں گے، جس سے ٹیکس بیس وسیع کرنے اور جدید ڈیجیٹل ادائیگی و اکاؤنٹنگ نظام کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔