چین کے تعاون کے بغیر ایران پر امریکی پابندیاں بے اثر ہوں گی، نیویارک ٹائمز

چین کے تعاون کے بغیر ایران پر امریکی پابندیاں بے اثر ہوں گی، نیویارک ٹائمز
واشنگٹن: ایران کو معاشی طور پر دباؤ میں لانے اور عالمی سطح پر تنہا کرنے کی امریکی کوششوں میں چین کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق بیجنگ کی جانب سے تہران کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے روابط برقرار رکھنے کی صورت میں واشنگٹن کے لیے ایران پر سخت پابندیوں کو مؤثر بنانا مشکل ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق چین ایران کا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہونے کے ساتھ ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ ایران کی تیل برآمدات کا بڑا حصہ چینی خریدار حاصل کرتے ہیں، جس کے باعث امریکی پابندیوں کے باوجود تہران کو عالمی منڈی سے آمدنی حاصل کرنے کا راستہ برقرار رہتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی تیل کا نمایاں حصہ چین کی چھوٹی آزاد ریفائنریوں، جنہیں ’ٹی پاٹس‘ کہا جاتا ہے، کو فروخت کیا جاتا ہے۔ یہ ادارے عالمی مالیاتی نظام سے نسبتاً کم منسلک ہیں، جس کی وجہ سے ان پر امریکی پابندیوں کا اثر محدود رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن کے لیے چین کے ساتھ معاملہ صرف ایران سے اس کے تجارتی تعلقات تک محدود نہیں، بلکہ بیجنگ کے ممکنہ جوابی اقدامات بھی امریکی پالیسی سازوں کے لیے ایک اہم چیلنج ہیں۔ چین امریکی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت کے لیے اہم معدنیات کی برآمد محدود کرکے امریکا پر اقتصادی دباؤ ڈالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکا اور چین کے درمیان گزشتہ برس تجارتی کشیدگی کے دوران بیجنگ کی جانب سے اہم معدنیات کی برآمدات محدود کرنے کے اقدامات نے چین کی اقتصادی قوت کا عملی مظاہرہ کیا۔ اس تجربے کے بعد بیجنگ کو یہ اعتماد حاصل ہوا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کا مقابلہ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اگر چین پر ایران کے ساتھ تجارتی روابط ختم کرنے کے لیے شدید دباؤ ڈالتا ہے تو بیجنگ کی جانب سے امریکی صنعتوں کے خلاف جوابی اقتصادی اقدامات کا خطرہ بھی موجود ہے۔ یہی صورتحال واشنگٹن کے لیے ایران پر زیادہ سے زیادہ اقتصادی دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے چینی ماہرین کے تجزیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین میں بعض حلقے ایران کے معاملے کو امریکا کی محدود ہوتی ہوئی گنجائش اور بڑھتی ہوئی مشکلات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکا کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ چین کے تعاون کے بغیر ایران کو کس حد تک مؤثر انداز میں معاشی طور پر تنہا کرسکتا ہے، جبکہ بیجنگ پر ضرورت سے زیادہ دباؤ خود امریکی معیشت اور اہم صنعتی شعبوں کے لیے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔
یوں ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کی کامیابی کا ایک اہم دارومدار چین کے آئندہ طرزِ عمل پر ہے، کیونکہ بیجنگ کے ساتھ تعاون کے بغیر تہران کے تیل کی آمدنی اور عالمی تجارتی روابط کو مکمل طور پر محدود کرنا واشنگٹن کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوسکتا ہے۔