امریکی پابندیوں کے باوجود ایران نے تیل بیچ کر اربوں ڈالر کمائے، محسن رضائی

امریکی پابندیوں کے باوجود ایران نے تیل بیچ کر اربوں ڈالر کمائے، محسن رضائی
تہران: ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ محسن رضائی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران نے گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران تقریباً 7 کروڑ بیرل تیل فروخت کیا اور اپنی روزانہ پیداوار کے برابر تیل کی فروخت جاری رکھی۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے پریس ٹی وی کے مطابق محسن رضائی نے ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کوئی نئی بات نہیں اور ایران اس کے باوجود تیل کی برآمد جاری رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک سے دو ماہ کے دوران 70 ملین بیرل تیل بھیجا گیا، جبکہ امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کے باوجود ایران روزانہ اپنی پیداوار کے برابر تیل فروخت کر رہا ہے۔
رضائی نے کہا کہ ایران امریکا کی جانب سے مسلط کی جانے والی مبینہ ’’اقتصادی جنگ‘‘ کو ناکام بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا کہ وہ ایران کے خلاف امریکی اقتصادی مہم کا حصہ نہ بنیں، بصورت دیگر تہران پہلے ان سے مذاکرات کرے گا اور اگر وہ اپنے فیصلے پر قائم رہے تو ایران انہیں دشمن ملک تصور کرتے ہوئے ان کے مفادات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر خطے کے ممالک ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات میں شریک ہوئے تو تہران خلیج فارس سے تیل کی ترسیل روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز فی الحال بند ہے اور اسے اس وقت تک دوبارہ کھولنے کا ارادہ نہیں جب تک امریکا اپنی مبینہ ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔
رضائی نے امریکا کو بھی خبردار کیا کہ خطے میں مزید امریکی فوجی تعینات کیے گئے تو ایران ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں لیکن دشمنانہ اقدامات کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنی سلامتی اور مفادات کے دفاع کے لیے مزاحمت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ تنازع کے بعد ایران کی دفاعی حکمت عملی اور سفارتی طرزِ عمل تبدیل ہوچکا ہے اور ’’جنگ سے پہلے والا ایران‘‘ اب موجود نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق تہران مستقبل کی کسی بھی ممکنہ جنگ میں حالیہ تجربات سے حاصل ہونے والے اسباق کو اپنی فوجی منصوبہ بندی میں شامل کرے گا۔
محسن رضائی نے کہا کہ تہران سفارت کاری کے لیے اب بھی سنجیدہ ہے، تاہم مذاکرات کے حوالے سے اس کا طریقہ کار تبدیل ہوگیا ہے۔ ان کے مطابق ایران امریکا سے اس وقت تک کسی پیش رفت کی توقع نہیں رکھتا جب تک واشنگٹن اپنی یقین دہانیاں پوری نہیں کرتا۔
ایرانی عہدیدار کے مطابق امریکا نے فوجی دباؤ کے بعد اقتصادی دباؤ کا راستہ اختیار کیا ہے، تاہم ایران کئی برسوں سے پابندیوں سے نمٹنے کے طریقے سیکھ چکا ہے اور اقتصادی دباؤ کے باوجود تیل کی فروخت جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔