امریکی سائنسدانوں کا کھلی فضا میں 21 کلومیٹر دور کوانٹم معلومات کی کامیاب ترسیل کا مظاہرہ

امریکی سائنسدانوں کا کھلی فضا میں 21 کلومیٹر دور کوانٹم معلومات کی کامیاب ترسیل کا مظاہرہ
نیویارک، 24 اگست 2026: امریکی سائنسدانوں نے کوانٹم کمیونیکیشن کے میدان میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے کھلی فضا میں 13 میل یعنی تقریباً 21 کلومیٹر کے فاصلے تک کوانٹم معلومات کی کامیاب ترسیل اور وصولی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ پیش رفت مستقبل کے انتہائی محفوظ کوانٹم مواصلاتی نیٹ ورک کی بنیاد بن سکتی ہے۔
یہ تجربہ بروک ہیون نیشنل لیبارٹری اور اسٹونی بروک یونیورسٹی کے محققین نے نیویارک میں قائم دو خصوصی مراکز کے درمیان کیا۔ سائنسدانوں نے لیزر کے ذریعے چند فوٹونز پر مشتمل کوانٹم حالتیں پیدا کیں اور انہیں کھلی فضا میں 21 کلومیٹر دور موجود رسیور تک پہنچایا، جہاں انتہائی حساس اور تیز رفتار آلات نے انہیں کامیابی سے وصول کیا۔
تجربے کا ایک اہم مرحلہ 19 اگست کی رات مکمل کیا گیا، جب Entangled Photons یعنی باہم جڑے ہوئے فوٹونز کو بھی کھلی فضا کے ذریعے منتقل کرکے کامیابی سے وصول اور ناپا گیا۔ اس کے بعد 21 اگست کو دن کے وقت بھی کوانٹم حالتوں کی ترسیل کا مظاہرہ کیا گیا۔
اس ٹیکنالوجی میں سب سے بڑا چیلنج فضائی انتشار یا Atmospheric Turbulence تھا، جو روشنی کے راستے کو تبدیل کرکے کوانٹم معلومات کو متاثر کرسکتا ہے۔ سائنسدانوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فلکیاتی دوربینوں میں استعمال ہونے والی Adaptive Optics ٹیکنالوجی استعمال کی، جس نے ماحول کی وجہ سے روشنی میں پیدا ہونے والی خرابیوں کو درست کرنے میں مدد دی۔
ماہرین کے مطابق اس پیش رفت سے مستقبل میں کوانٹم کمیونیکیشن کو صرف زیرزمین فائبر آپٹک کیبلز تک محدود رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ فری اسپیس آپٹیکل لنکس کے ذریعے ایسے مقامات کو بھی کوانٹم نیٹ ورک سے جوڑا جاسکے گا جہاں فائبر کیبل بچھانا مشکل یا مہنگا ہو۔
کوانٹم کمیونیکیشن کا ایک اہم فائدہ انتہائی محفوظ مواصلات کا امکان ہے۔ کوانٹم حالت میں مداخلت کی صورت میں تبدیلی کا سراغ لگایا جاسکتا ہے، جس سے مستقبل میں حساس سرکاری، دفاعی، سفارتی اور مالیاتی مواصلات کے لیے زیادہ محفوظ نظام تشکیل دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں مختلف کوانٹم کمپیوٹرز اور کوانٹم سینسرز کو آپس میں جوڑنے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے، جس سے Distributed Quantum Computing اور انتہائی حساس سائنسی پیمائشوں کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
اس پیش رفت کا سب سے بڑا ممکنہ فائدہ خلائی مواصلات میں سامنے آسکتا ہے۔ سائنسدان مستقبل میں زمین سے سیٹلائٹس اور ایک سیٹلائٹ سے دوسرے سیٹلائٹ تک کوانٹم معلومات منتقل کرنے کے لیے فری اسپیس آپٹیکل لنکس استعمال کرنے کی امید رکھتے ہیں، جس سے عالمی کوانٹم نیٹ ورک کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔
اس منصوبے کو مزید وسعت دینے کے لیے ییل یونیورسٹی میں ایک تیسرا فری اسپیس آپٹیکل مرکز بھی تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے تقریباً 48 کلومیٹر فاصلے پر کوانٹم رابطے کے تجربات کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
تاہم ماہرین کے مطابق ابھی یہ ٹیکنالوجی عام انٹرنیٹ کا متبادل نہیں۔ طویل فاصلے، موسمی حالات، فضائی turbulence، فوٹون لاس اور انتہائی حساس آلات جیسے کئی تکنیکی چیلنجز حل کرنا باقی ہیں۔ اس کے باوجود 21 کلومیٹر کا کامیاب تجربہ مستقبل کے عالمی، انتہائی محفوظ کوانٹم انٹرنیٹ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔