آزاد کشمیر اسمبلی میں مخصوص نشستوں کے نومنتخب اراکین کی حلف برداری

مظفرآباد (نمائندہ خصوصی)۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر کامیاب ہونے والے نومنتخب اراکین نے اپنی ذمہ داریوں کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے حلف اٹھا لیا ہے۔ اسپیکر قانون ساز اسمبلی چوہدری لطیف اکبر نے ایوان کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے نئے اراکین سے ان کے عہدوں کا حلف لیا۔ اس تقریب کے ساتھ ہی ایوان میں پارلیمانی عمل کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے۔
انتخابی نتائج کا جائزہ
آزاد کشمیر اسمبلی کی 8 مخصوص نشستوں پر منعقد ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ ن نے اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے نمایاں کامیابی حاصل کی اور 6 نشستیں اپنے نام کیں، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں 2 نشستیں آئیں۔ یہ پیشرفت وزیراعظم شہباز شریف سے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی ملاقات کے تناظر میں سیاسی حلقوں میں خاصی اہمیت کی حامل سمجھی جا رہی ہے۔
کامیاب امیدواروں کی تفصیل
خواتین کے لیے مختص 5 نشستوں پر مقابلہ انتہائی دلچسپ رہا۔ ان نشستوں پر مسلم لیگ ن کی سحرش قمر، مریم زمان اور مریم ادریس کامیاب ہوئیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے فرزانہ یعقوب اور زوبیا خورشید نے کامیابی حاصل کر کے ایوان میں نشستیں محفوظ کیں۔ اس کے علاوہ، علما و مشائخ کی مخصوص نشست پر مسلم لیگ ن کے پیر مظہر سعید شاہ کامیاب قرار پائے، جبکہ ٹیکنوکریٹ کی نشست بیرسٹر افتخار گیلانی کے نام رہی۔ اوورسیز کشمیریوں کے لیے مختص نشست پر بھی مسلم لیگ ن کے عبدالرحمان آرائیں فاتح رہے۔
اسمبلی میں سیاسی پوزیشن
مخصوص نشستوں کے نتائج کے بعد آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی مجموعی نشستوں کی تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے۔ عوامی دست و بازو کی ایک نشست پر مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کے بعد حکومتی اتحاد کے پاس اب مجموعی طور پر 32 نشستیں موجود ہیں۔ یہ صورتحال ایوان میں حکومت کو مستحکم پوزیشن فراہم کرتی ہے، جیسا کہ قیصر احمد شیخ کا بی ایف سی اسلام آباد کا دورہ، کارکردگی کا جائزہ کے دوران حکومتی کارکردگی کے تسلسل پر زور دیا گیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت اسمبلی میں 14 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت کے طور پر موجود ہے۔ مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے عمل کے مکمل ہونے کے بعد اسمبلی میں جماعتوں کی پارلیمانی پوزیشن مزید واضح ہوگئی ہے، جس سے مستقبل میں قانون سازی اور ایوان کی کارروائی میں شفافیت آئے گی۔ اس پیشرفت پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ جمہوری عمل موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ Caa1 سے بڑھا کر B3 کر دی کے بعد ملک کی سیاسی استحکام کی تصویر کو بہتر بنانے میں مدد دے گا۔