آرمی چیف کے دورہ ایران پر تہران اور اسلام آباد کا اظہار اطمینان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ ایرانی صدارتی دفتر نے پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ایران کے حالیہ دورے کو انتہائی نتیجہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس دوران قابلِ قدر سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور دورے کے نتائج جلد ہی عملی صورت میں سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ ایرانی صدر کے دفتر کے نائب برائے مواصلات و اطلاعات سید مہدی طباطبائی نے اپنے بیان میں کہا کہ بعض ذرائع ابلاغ میں سامنے آنے والے قیاس آرائیوں کے برعکس فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی کی ایرانی صدر سے ملاقات انتہائی ثمر بخش تھی اور اس میں اہم سفارتی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ ان کے مطابق دورے کے نتائج مستقبل قریب میں واضح ہو جائیں گے۔
دورے کے اہم نکات اور ملاقاتیں
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے 24 اگست کو وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ ایک روزہ دورے پر تہران کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی، وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں رہبر انقلاب کے نمائندے محسن رضائی سمیت اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں کیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی صدر اور اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کے حوالے سے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی میں مزید اضافے کی روک تھام، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، جاری ایران۔امریکا تنازع کے جلد خاتمے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مذاکراتی حل تلاش کرنے پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔
علاقائی امن اور پاکستان کا سفارتی کردار
ایرانی قیادت نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار اور کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ایرانی صدر کے درمیان ملاقات انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔ ان کے مطابق مذاکرات میں ایران۔امریکا تنازع، خطے میں بڑھتی کشیدگی، مستقبل کا لائحہ عمل اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے لیے ضروری اقدامات پر گفتگو ہوئی جبکہ ملاقات میں ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی۔
پس منظر اور موجودہ صورتحال
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ ایران ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔ پاکستان اس بحران کے دوران دونوں فریقوں کے ساتھ رابطے برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی اور تجارتی نقل و حمل کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے، جس میں کسی بھی طویل رکاوٹ کے عالمی تیل کی سپلائی، قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے سفارتی کوششوں کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ملاقات کے دوران اس امید کا اظہار بھی کیا کہ مشترکہ ارادے اور تعاون جاری رکھتے ہوئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں طے شدہ اہداف حاصل کیے جا سکیں گے۔