سپر پاورز کو تسلیم کرنا ہوگا، ان کا اثر و رسوخ محدود ہو چکا، اب وہ اپنی مرضی دیگر ممالک پر مسلط نہیں کر سکتے، دنیا بدل چکی ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

سپر پاورز کو تسلیم کرنا ہوگا، ان کا اثر و رسوخ محدود ہو چکا، اب وہ اپنی مرضی دیگر ممالک پر مسلط نہیں کر سکتے، دنیا بدل چکی ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ دنیا بدل چکی ہے اور عالمی طاقتوں کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ان کی طاقت اور اثر و رسوخ پہلے جیسا نہیں رہا، اب بڑی طاقتیں اپنی مرضی، طاقت یا عسکری قوت دیگر ممالک پر پہلے کی طرح مسلط نہیں کرسکتیں۔
اپنی دوسری اور آخری پانچ سالہ مدت کے اختتام سے قبل ایک تفصیلی انٹرویو میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ روس یوکرین جنگ اور امریکا ایران تنازع نے بڑی طاقتوں کی طاقت کی حدود واضح کردی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقت کا توازن تبدیل ہو رہا ہے اور دنیا امریکی بالادستی پر مبنی سرد جنگ کے بعد کے نظام سے کثیر قطبی دنیا کی جانب بڑھ رہی ہے۔
گوتریس نے روس یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو نے فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے آغاز پر مختصر مدت میں فیصلہ کن کامیابی کی توقع کی تھی، تاہم جنگ طویل ہوگئی اور روس اپنے تمام مطلوبہ اہداف حاصل نہیں کرسکا۔
انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کو بھی عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی مثال قرار دیا۔ گوتریس کے مطابق واشنگٹن کو توقع تھی کہ ایران پر حملے کے بعد تہران پسپائی اختیار کرے گا، لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایرانی حکومت برقرار ہے اور خطے میں کشیدگی ختم نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ بڑی طاقتوں کے لیے اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنا اب پہلے کی طرح آسان نہیں رہا۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ مختلف ممالک کی سیاسی، اقتصادی اور سفارتی اہمیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور عالمی نظام میں نئی طاقتیں اب زیادہ مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے بھارت اور خلیجی ممالک سمیت عالمی جنوب کی ابھرتی ہوئی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار کو مثبت رجحان قرار دیا۔
گوتریس نے کہا کہ عالمی اداروں کو بھی بدلتی ہوئی طاقت کی حقیقت کے مطابق اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ان کے مطابق عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک جیسے ادارے ایسے دور میں قائم کیے گئے تھے جب دنیا کا طاقت کا توازن آج سے بہت مختلف تھا۔ موجودہ عالمی نظام میں ان اداروں کی نمائندگی اور فیصلہ سازی کو نئی حقیقتوں کے مطابق ڈھالنا ضروری ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کثیر قطبی دنیا لازماً زیادہ پرامن دنیا نہیں ہوگی۔ اگر عالمی ادارے بدلتی ہوئی دنیا کے مطابق اصلاحات نہ کرسکے تو بڑھتی ہوئی کثیر قطبیت عالمی مقابلے، کشیدگی اور بالآخر محاذ آرائی میں تبدیل ہوسکتی ہے۔
گوتریس نے پہلی عالمی جنگ سے قبل یورپ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی دنیا کثیر قطبی تھی، تاہم مؤثر کثیرالجہتی اداروں کی عدم موجودگی نے طاقت کے مقابلے کو تباہ کن جنگ میں تبدیل کردیا۔ ان کے مطابق موجودہ عالمی برادری کو اس تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات پر بھی زور دیا اور کہا کہ موجودہ عالمی طاقت کے توازن کے تناظر میں اس کا ڈھانچہ اب پائیدار نہیں رہا۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس ہیں، جنہیں ویٹو کا اختیار حاصل ہے، جبکہ ان میں تین یورپی ممالک ہیں۔
گوتریس کے مطابق زمینی حقائق بالآخر سلامتی کونسل کو عالمی طاقت کے بدلتے ہوئے تناسب کے مطابق ڈھالنے پر مجبور کریں گے، تاہم نئے مستقل ارکان کی شمولیت پر اتفاق رائے پیدا کرنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ طاقت رضاکارانہ طور پر منتقل نہیں ہوتی، بلکہ عالمی برادری کو ایسے حالات پیدا کرنا ہوں گے جن میں طاقت کا نیا توازن ادارہ جاتی شکل اختیار کرسکے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کو سلامتی کونسل کا متبادل قرار دینے کے تصور کو بھی مسترد کیا۔ ان کے مطابق غزہ میں اس فورم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مؤثر متبادل قرار دینے کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں۔
گوتریس نے اعتراف کیا کہ اقوام متحدہ کو مالی بحران اور بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات سمیت متعدد مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق تنظیم کے ذمے تقریباً 4 ارب ڈالر کے واجبات ہیں، جبکہ 2026 کے بجٹ میں ملازمتوں کی تعداد میں 22 فیصد کمی کی گئی ہے۔ گزشتہ سال امن مشنز میں تعینات فوجیوں کی تعداد بھی 25 فیصد کم کی گئی۔
امریکا کے ساتھ اختلافات کے باوجود گوتریس نے کہا کہ اقوام متحدہ اور واشنگٹن متعدد معاملات میں عملی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں، جن میں مغربی صحارا، لیبیا، سوڈان اور ہیٹی کے انسانی بحران شامل ہیں۔ ان کے مطابق بعض اوقات سیاسی بیانات اور عملی اقدامات میں واضح فرق ہوتا ہے۔
اپنے تقریباً ایک دہائی پر محیط دور کا جائزہ لیتے ہوئے گوتریس نے کہا کہ تمام مشکلات کے باوجود اقوام متحدہ کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ اس نے بڑی طاقتوں کے درمیان ایک نئی عالمی جنگ کو روکنے میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کے پاس براہ راست طاقت نہیں، تاہم ان کے پاس آواز اور ممالک کو ایک جگہ جمع کرنے کی صلاحیت ضرور موجود ہے۔
انتونیو گوتریس دسمبر 2026 میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے منصب سے سبکدوش ہوجائیں گے۔ ان کے جانشین کو ایک ایسے عالمی نظام کی قیادت سنبھالنا ہوگی جو بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی، عالمی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت، مالی بحران اور تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن جیسے بڑے چیلنجز سے دوچار ہے۔