سعودی جوہری معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط کے ساتھ امریکی کانگریس پہنچ گیا

سعودی جوہری معاہدہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط کے ساتھ امریکی کانگریس پہنچ گیا
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ شہری جوہری تعاون کا معاہدہ کانگریس کو بھجوا دیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا ہے کہ معاہدے پر پیش رفت کے لیے ریاض کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنا اہم شرط ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق معاہدہ 24 اگست کو کانگریس کو بھیجا گیا، جسے جولائی میں حتمی شکل دی گئی تھی۔ 30 سالہ معاہدے کے تحت امریکی کمپنیوں کو سعودی عرب کو شہری جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کی اجازت ہوگی، جس میں اے پی 1000 ری ایکٹرز بھی شامل ہیں۔
امریکی انتظامیہ کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور معاہدہ اسی صورت آگے بڑھے گا جب سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرے گا۔
کانگریس کو معاہدے کا جائزہ لینے کے لیے 90 سیشن دن حاصل ہوں گے۔ اگر اس مدت کے دوران قانون سازوں نے معاہدے کو روکنے کی قرارداد منظور نہ کی تو یہ معاہدہ نافذ العمل ہوسکتا ہے۔ کانگریس کی جانب سے مسترد کیے جانے کی صورت میں صدر اسے ویٹو کرسکتے ہیں، جسے ختم کرنے کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
سعودی عرب کا مؤقف ہے کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ناقابل واپسی اور قابل اعتماد پیش رفت کے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا۔ غزہ میں اکتوبر 2023 میں جنگ شروع ہونے کے بعد ریاض نے اس مؤقف کو متعدد بار دہرایا ہے۔
مجوزہ جوہری معاہدے کو بعض ڈیموکریٹ ارکان کانگریس اور جوہری عدم پھیلاؤ کے ماہرین کی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ معاہدے میں یورینیم افزودگی اور جوہری فضلے کی دوبارہ پراسیسنگ پر وہ سخت پابندیاں شامل نہیں جو امریکا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جوہری تعاون کے معاہدے میں موجود ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ معاہدے میں امریکی قانون کے تحت مطلوبہ جوہری عدم پھیلاؤ کے حفاظتی اقدامات شامل ہیں۔