زرعی ترقیاتی بینک کی کامیابی قومی اداروں کی بحالی کا ثبوت ہے

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پبلک ایکشن فورم کے چیئرمین آصف سلیم مٹھا نے کہا ہے کہ زرعی ترقیاتی بینک کے منافع بخش ادارے میں تبدیل ہونے سے ان عناصر کے عزائم کو کاری ضرب لگی ہے جو قومی اداروں کو خسارے سے دوچار ظاہر کر کے نجکاری کی راہ ہموار کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بینک کی حالیہ مالی بہتری اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اگر پیشہ ورانہ انداز، میرٹ، دیانت داری اور موثر انتظامی حکمت عملی اپنائی جائے تو قومی اداروں کو منافع بخش بنایا جا سکتا ہے۔
قومی اداروں کی بحالی کا امکان
اپنے جاری کردہ بیان میں آصف سلیم مٹھا نے کہا کہ ماضی میں متعدد قومی اداروں کے مسلسل خسارے کو نجکاری کا جواز بنایا جاتا رہا، تاہم زرعی ترقیاتی بینک کی شاندار کارکردگی نے اس فرسودہ سوچ پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ برآمدی شعبے پر سپر ٹیکس ختم، نئی صنعتی پالیسی کا اعلان جیسے اقدامات کے ساتھ ساتھ اگر انتظامی سطح پر اصلاحات کی جائیں تو ملکی معیشت کے لیے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
انتظامی اصلاحات اور شفافیت کی اہمیت
انہوں نے زرعی ترقیاتی بینک کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر طاہر یعقوب بھٹی اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات اور بہتر انتظام کے ذریعے بینک کو منافع بخش بنانا ایک قابل تحسین اقدام ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بینک کی مثبت کارکردگی کے بعد بعض عناصر کی جانب سے منفی اور بے بنیاد پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے، جس کا فوری نوٹس لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قومی ادارے کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے جھوٹے الزامات لگانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
نجکاری سے قبل اصلاحات اولین ترجیح
پبلک ایکشن فورم کے چیئرمین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قومی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے پہلے اصلاح اور بحالی کے تمام ممکنہ راستے اختیار کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اداروں کو میرٹ، شفافیت اور جدید انتظامی اصولوں کے تحت چلایا جائے تو وہ نہ صرف خسارے سے نکل سکتے ہیں بلکہ ملکی معیشت میں موثر کردار بھی ادا کر سکتے ہیں، جس کی عملی مثال آج ہمارے سامنے ہے۔