ای سی او ریجن کی تجارت بڑھانے کیلئے ایکوٹا کی بحالی ناگزیر ہے

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ صدر ایف پی سی سی آئی اور ای سی او چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ای سی او سی سی آئی)، عاطف اکرام شیخ نے علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور ای سی او خطے کو ایک مربوط اور مسابقتی اقتصادی بلاک میں تبدیل کرنے کے لیے ای سی او ٹریڈ ایگریمنٹ (ECOTA) کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور اس کے مؤثر نفاذ پر زور دیا ہے۔
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ ای سی او خطہ فی الحال عالمی تجارت میں صرف 4 فیصد حصہ ڈال رہا ہے، جبکہ بین السطحی تجارت تقریباً 8.75 فیصد ہے، جو اس کی اصل صلاحیت سے کافی کم ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کا تجارتی خسارہ 18 فیصد بڑھنے پر ایف پی سی سی آئی کا شدید اظہارِ تشویش کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
ای سی او خطے کی اقتصادی صلاحیتیں
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ اس خطے کو بے پناہ اقتصادی فوائد حاصل ہیں جن میں ہائیڈرو کاربن اور معدنی وسائل، نوجوان اور ہنر مند آبادی، ایشیا کو یورپ سے ملانے والی اسٹریٹجک روڈ اور ریل رابطے، اور چین، انڈیا اور روس جیسی بڑی منڈیوں سے قربت شامل ہے۔ تاہم، بلند ٹیرف، غیر ٹیرف رکاوٹیں، مصنوعات کے تنوع میں کمی، تجارتی ادائیگیوں میں مشکلات اور ریگولیٹری اختلافات اب بھی علاقائی تجارت میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ECOTA کا پس منظر اور چیلنجز
انہوں نے یاد دلایا کہ ECOTA پر 2003 میں دستخط ہوئے اور یہ اپریل 2008 میں نافذ ہوا جس کا مقصد ایک ای سی او فری ٹریڈ ایریا قائم کرنا تھا۔ تاہم، ٹیرف ڈھانچوں میں فرق، نامکمل پروڈکٹ لسٹیں اور مساوی فوائد کے حوالے سے تحفظات نے اس کے مؤثر نفاذ کو روکے رکھا ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ ECOTA کو محض کاغذی معاہدہ نہیں رہنا چاہیے، ہمیں مستقل مذاکرات کے ذریعے توازن اور منصفانہ فوائد پر مبنی فریم ورک تیار کرنے کی ضرورت ہے۔
تجارت اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے تجاویز
انہوں نے ٹیرف میں کمی، مصنوعات کے تنوع، سرمایہ کاری کے فروغ اور تجارتی ادائیگیوں کے لیے مضبوط میکانزم کی تجویز دی۔ اس کے علاوہ ٹرانزیکشن اخراجات کو کم کرنے، ریگولیٹری شفافیت، ای کامرس، ڈیجیٹل تجارت، اور علاقائی ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس انفراسٹرکچر کی ترقی پر بھی زور دیا گیا۔ عاطف اکرام شیخ نے مزید مشورہ دیا کہ تجارتی فنانسنگ اور علاقائی انفراسٹرکچر منصوبوں کی معاونت کے لیے ای سی او ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ بینک کے وسائل کو استعمال میں لایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بطور ای سی او اور ای سی او سی سی آئی کا فعال رکن، علاقائی اقتصادی انضمام کو مضبوط بنانے کے اقدامات کی حمایت جاری رکھے گا۔ جیسا کہ یونان کی سفیر کا پاک یونان اقتصادی تعلقات کے فروغ میں نجی شعبے کے فعال کردار پر زور دیا گیا، ویسے ہی نجی شعبے کی شمولیت اہم ہے۔ انہوں نے اختتامی کلمات میں کہا کہ ای سی او ریجن میں ایک طاقتور اقتصادی بلاک بننے کے تمام اجزاء موجود ہیں، بس ایک مضبوط عزم اور عملی تجارتی سہولت کاری کی ضرورت ہے۔