ایف بی آر کی چھوٹے تاجروں کیلئے نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھوٹے تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا باضابطہ طریقہ کار جاری کر دیا ہے، جس کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور رکھنے والی دکانوں کے مالکان اس نئی اسکیم سے مستفید ہو سکیں گے۔ یہ اقدام معاشی استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا اور چھوٹے کاروباری طبقے کو سہولت فراہم کرنا ہے۔ حال ہی میں پاکستان نے 17 ارب ڈالر کا قرض مقررہ مدت سے پہلے ادا کر دیا ہے، جس کے بعد حکومت اب محصولات کے نئے ذرائع پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
اسکیم کی اہم تفصیلات اور طریقہ کار
ایف بی آر کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اسکیم رضاکارانہ بنیادوں پر متعارف کرائی جا رہی ہے۔ دکانداروں کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ چاہیں تو اس اسکیم میں شامل ہوں یا پھر معمول کے مطابق اپنا انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرائیں۔ اس اسکیم کے تحت مجموعی سالانہ ٹرن اوور پر ایک فیصد فکسڈ ٹیکس عائد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اور حکومت کو توقع ہے کہ اس اقدام سے قومی خزانے میں سالانہ 50 ارب روپے سے زائد کی اضافی آمدن متوقع ہے۔
شرائط و ضوابط اور استثنیٰ
اسکیم میں شمولیت اختیار کرنے والے دکانداروں کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس نقد جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ تاہم، اس اسکیم کے دائرہ کار سے کچھ شعبوں کو باہر رکھا گیا ہے، جن میں ٹیئر ون ریٹیلرز، جیولرز (سونے کے تاجر) اور پروفیشنل سروسز فراہم کرنے والے افراد و ادارے شامل نہیں ہوں گے۔ ان شعبوں کے لیے الگ ضابطہ کار لاگو رہے گا۔
رجسٹرڈ تاجروں کو خصوصی مراعات
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ جو دکاندار اس اسکیم میں رجسٹر ہوں گے، انہیں خصوصی ‘گرین پلیٹ’ جاری کی جائے گی۔ اس پلیٹ کے حامل کاروباری مراکز پر ایف بی آر کے افسران معمول کے ٹیکس معاملات یا چھاپوں کے لیے داخل نہیں ہوں گے۔ اس کے علاوہ، اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے تاجروں کو پوائنٹ آف سیل (POS) مشین نصب کرنے کی شرط اور معمول کے ٹیکس آڈٹ سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔ یہ سہولتیں چھوٹے تاجروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنیں گی، بالکل اسی طرح جیسے پائیدار ترقی کیلئے عالمی اصلاحات ناگزیر ہیں، پروفیسر احسن اقبال کے ویژن کے مطابق معاشی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
قانونی کارروائی اور نگرانی
ایف بی آر نے واضح کیا ہے کہ اس اسکیم کا غلط استعمال، غلط معلومات فراہم کرنا یا ٹیکس چوری کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس صورت میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اگر کسی دکاندار کی کاروباری سرگرمی غیر معمولی پائی گئی یا انہوں نے بھاری مالیت کے اثاثے خریدے تو ایف بی آر کو متعلقہ دکاندار کا خصوصی آڈٹ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایف بی آئی ہیڈکوارٹر کا دورہ بھی اہم رہا، جس میں اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ اور نگرانی کے جدید نظام پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔