مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

برطانیہ اسرائیل تنازعہ شدت اختیار کر گیا، اسرائیل کا مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

برطانیہ اسرائیل تنازعہ شدت اختیار کر گیا، اسرائیل کا مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

برطانیہ اسرائیل تنازعہ شدت اختیار کر گیا، اسرائیل کا مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم

مقبوضہ بیت المقدس، 9 ستمبر: برطانیہ اور اسرائیل کے درمیان سفارتی محاذ آرائی مزید شدت اختیار کر گئی، اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں قائم برطانوی قونصل خانے کو 30 دن کے اندر بند کرنے کا حکم دے دیا جبکہ برطانوی سفارتکاروں کی سفارتی منظوری ختم کرنے سمیت متعدد سخت جوابی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

اسرائیل کا یہ غیر معمولی اقدام برطانیہ کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کے خلاف نئی تجارتی پابندیوں کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ برطانیہ کے اس فیصلے نے تل ابیب کو سخت ردعمل پر مجبور کیا اور دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات کھلے سفارتی تصادم میں تبدیل ہوگئے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعر نے برطانوی اقدامات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اسرائیل کے خلاف ’’اخلاقی طور پر مسخ شدہ‘‘ اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ کا طرزعمل اسرائیل کے داخلی معاملات اور انتخابی عمل میں مداخلت کے مترادف ہے۔ اسرائیل میں آئندہ ماہ عام انتخابات بھی ہونے جا رہے ہیں۔

تل ابیب نے برطانیہ کے خلاف صرف قونصل خانے کی بندش کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ جوابی اقدامات کا دائرہ بھی وسیع کردیا ہے۔ امریکی قیادت میں غزہ کے حوالے سے قائم رابطہ مشن میں موجود برطانوی نمائندوں کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ رام اللہ میں موجود برطانوی سفارتکاروں اور فلسطینی سکیورٹی فورسز کو تربیت فراہم کرنے والی برطانوی ٹیم کو سات دن کے اندر علاقہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔

اسرائیل نے مزید 12 برطانوی شہریوں، جن میں 11 ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں، کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے۔ پابندی کی زد میں آنے والوں میں سابق برطانوی لیبر رہنما جیریمی کوربن بھی شامل ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اختلافات کی شدت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی کارروائی کی بنیادی وجہ برطانیہ سمیت 12 ممالک کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں سے آنے والی مصنوعات کے خلاف پابندیوں کا اعلان ہے۔ برطانیہ کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی بستیوں کی مسلسل توسیع اور آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں کے خلاف تشدد خطے میں امن، دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کے قیام کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اسرائیل کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ لندن کا کہنا ہے کہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف تجارتی اقدامات کا مقصد اسرائیلی عوام کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاری اور فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد کے خلاف دباؤ بڑھانا ہے۔

مبصرین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے برطانیہ کی سفارتی موجودگی کو براہ راست نشانہ بنانا دونوں ممالک کے تعلقات میں غیر معمولی پیش رفت ہے۔ برطانیہ طویل عرصے سے اسرائیل کا اہم مغربی اتحادی رہا ہے، تاہم غزہ جنگ، مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری اور فلسطینی ریاست کے معاملے پر دونوں حکومتوں کے اختلافات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

صورتحال اب محض بیانات اور سفارتی احتجاج تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف عملی سفارتی اور اقتصادی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ لندن اسرائیلی بستیوں پر دباؤ بڑھا رہا ہے جبکہ تل ابیب نے جواباً برطانوی سفارتی موجودگی، نمائندوں اور بعض برطانوی شہریوں کے خلاف سخت اقدامات کرکے واضح کردیا ہے کہ وہ اپنے خلاف بڑھتے ہوئے مغربی دباؤ کا جواب دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

رائٹرز نے 9 ستمبر 2026 کو رپورٹ کیا کہ اسرائیل نے مشرقی یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو 30 دن میں بند کرنے کی ڈیڈ لائن دی ہے، جبکہ الجزیرہ، ایسوسی ایٹڈ پریس اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے بھی اسرائیل اور برطانیہ کے درمیان بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی کو نمایاں طور پر رپورٹ کیا ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں