مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

پاکستان اور سعودی عرب کا سفارتی و سرکاری پاسپورٹ پر ویزا ختم کرنے کا معاہدہ

نیویارک: پاکستان اور سعودی عرب نے سفارتی، سرکاری اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کر دیے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے۔

اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں امید ظاہر کی کہ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط اور ادارہ جاتی تبادلوں کو مزید آسان بنانے کے ساتھ باہمی مفادات کے تمام شعبوں میں دیرینہ برادرانہ تزویراتی شراکت داری کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوگا۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں قریبی دوطرفہ تعاون جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر سفارتی روابط بھی تسلسل کے ساتھ برقرار ہیں۔ 7 اگست کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے، جس کا مقصد اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنانا، دفاعی تعاون بڑھانا اور خطے سمیت عالمی سطح پر امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

بعد ازاں اگست میں پاکستان اور سعودی عرب نے پاکستانی زرعی اور غذائی مصنوعات کی سعودی عرب کو برآمدات 3 ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا تھا۔ یہ اتفاق سعودی وزیر ماحولیات، پانی و زراعت انجینئر عبدالرحمن الفضلی کی قیادت میں سعودی وفد کے دورہ پاکستان کے دوران ہوا۔

سعودی عرب نے جولائی میں عمرہ زائرین کے لیے ایک سالہ مدت کا ملٹی پل انٹری عمرہ ویزا بھی متعارف کرایا تھا، جس کے تحت زائرین ایک سال کے دوران متعدد مرتبہ مملکت میں داخل ہوسکتے ہیں، تاہم مجموعی قیام کی مدت 90 دن سالانہ تک محدود ہے۔

2024 میں سعودی عرب نے پاکستانی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزا کی شرائط میں بھی نرمی کی تھی، جس کے تحت درخواست گزار کم از کم 750 ڈالر ماہانہ کریڈٹ رقم یا اس کے مساوی رقم کا بینک اسٹیٹمنٹ پیش کرسکتے ہیں۔

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کی ملاقات

دریں اثنا اسحاق ڈار نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے الگ ملاقات بھی کی، جس میں انہوں نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مملکت پر ہونے والے حالیہ حملوں کی مذمت کی۔

دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا اور معاہدے کے تحت تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر ہونے والے مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

دونوں جانب سے دوطرفہ اور علاقائی امور پر مسلسل قریبی رابطے اور اعلیٰ سطح کے باقاعدہ تبادلوں کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔

ٹیگز: • • •
شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں