مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب، دفاعی تعاون پر غور ہو گا

نیویارک: 25 ستمبر 2026: سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس بلانے کے انتظامات شروع کردیئے ہیں، جس میں سعودی عرب کی حمایت اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ممکنہ دفاعی تعاون کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فیدان کے درمیان نیویارک میں ملاقات ہوئی، جس میں تینوں ممالک کے درمیان سکیورٹی اور دفاعی تعاون سمیت مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں وزرائے خارجہ نے معاہدے کے تحت سعودی، پاکستانی اور ترک چیف آف اسٹاف کا ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا، جس کا مقصد سعودی عرب کی حمایت کے ممکنہ طریقوں کا جائزہ لینا ہے۔ تاہم اجلاس کی حتمی تاریخ، مقام اور اس میں زیر غور آنے والے عملی فوجی اقدامات کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع اور سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ معاہدے کے بنیادی اصول کے مطابق کسی ایک فریق پر ہونے والے حملے کو تینوں ممالک کی سلامتی سے متعلق معاملہ تصور کیا جائے گا۔

31 اگست کو استنبول میں معاہدے کے تحت اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی منعقد ہوا تھا، جس میں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع اور عسکری قیادت نے شرکت کی۔ اجلاس میں معاہدے کے لیے سعودی عرب میں سیکریٹریٹ کے قیام اور دفاعی تعاون کو مزید ادارہ جاتی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

تینوں ممالک کے درمیان یہ تازہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سعودی عرب نے یمن سے حوثیوں کی جانب سے میزائل حملوں کی ایک نئی لہر کی اطلاع دی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق سعودی فضائی دفاعی نظام نے چھ بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کیا، جن کا رخ طائف اور ینبع کی جانب تھا۔

دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے ریاض میں ایک حساس ہدف اور ینبع میں سعودی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔ سعودی عرب میں مکہ مکرمہ، جدہ اور ینبع سمیت مختلف علاقوں کے لیے ہنگامی الرٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔

نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے دوران سعودی، پاکستانی اور ترک وزرائے خارجہ نے سعودی عرب میں شہری اور اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی۔

سعودی وزارت خارجہ کے مطابق تینوں ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے حقِ دفاع کی بھی توثیق کی۔

اس سے قبل 22 ستمبر کو پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان نیویارک میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری مشترکہ بیان میں بھی سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی گئی تھی اور سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا تھا۔

تاہم موجودہ پیش رفت کو پاکستان یا ترکیہ کی جانب سے سعودی عرب میں فوج بھیجنے یا حوثیوں کے خلاف براہ راست فوجی کارروائی میں شرکت کے حتمی فیصلے کے طور پر بیان کرنا قبل از وقت ہوگا۔ فی الحال سرکاری طور پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کے ہنگامی اجلاس کے انعقاد کے انتظامات پر بات ہوئی ہے، جبکہ ممکنہ عملی اقدامات کا فیصلہ اجلاس میں ہونے والی مشاورت کے بعد سامنے آسکتا ہے۔

دوسری جانب فرانس نے بھی سعودی عرب کی دفاعی معاونت کا اعلان کیا ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے مطابق فرانس سعودی عرب کے بحیرہ احمر کے اہم بندرگاہی شہر ینبع کے تحفظ کے لیے فوجی اہلکار، ریڈار اور دفاعی نظام بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یوں حوثیوں کے حالیہ حملوں کے بعد سعودی عرب کی سکیورٹی صورتحال نے علاقائی سطح پر دفاعی مشاورت کو تیز کردیا ہے اور مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عسکری رابطے بھی اہم مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔ تاہم تینوں ممالک کے عسکری سربراہان کے متوقع اجلاس کے نتائج اور ممکنہ عملی دفاعی اقدامات کی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں