نیشنل ایمرجنسی لگنے جا رہی ہے، نجم سیٹھی کا دعویٰ

لاہور: سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں نیشنل ایمرجنسی لگنے جا رہی ہے اور موجودہ سیاسی و سیکیورٹی صورتحال میں درپیش دو، تین بڑے مسائل کا حل نیشنل ایمرجنسی کے ذریعے نکالا جا سکتا ہے۔
اپنے تجزیاتی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے کہا کہ نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ سے پورا پاکستان حکومتی کنٹرول میں آ جاتا ہے اور اس صورت میں جس شخص کو عہدے پر رکھنا ہو رکھا جا سکتا ہے جبکہ جسے ہٹانا ہو فارغ کیا جا سکتا ہے۔
نجم سیٹھی نے پاکستان تحریک انصاف کے مؤخر کیے گئے احتجاجی مارچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پہلے ہی پیش گوئی کی تھی کہ مارچ ایک ہفتے کے لیے مؤخر کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت نے اسلام آباد کو مکمل طور پر سیل کرنے پر بھاری اخراجات کیے، تاہم مارچ کی نئی تاریخ کی وجہ سے دارالحکومت کو مزید ایک ہفتے تک بند رکھنے کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ طویل عرصے تک کنٹینرز کے استعمال سے ان کے مالکان مزید کرایے کا مطالبہ کریں گے، جبکہ حکومت کے لیے اس اضافی مالی بوجھ کو برداشت کرنا آسان نہیں ہوگا۔
نجم سیٹھی نے خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال اور افغان سرحد پر پیدا ہونے والی کشیدگی کا بھی ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو چکی ہے جبکہ افغان طالبان سرحد کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت سیکیورٹی کے معاملے پر وفاقی حکومت کو مطلوبہ تعاون فراہم نہیں کر رہی اور موجودہ کشیدہ صورتحال کے باعث وفاقی حکومت قانونی و آئینی راستے اختیار کرتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت کو اپنے کنٹرول میں لینے کا حتمی منصوبہ بنا رہی ہے۔
نجم سیٹھی کے یہ بیانات ان کے تجزیاتی پروگرام میں گفتگو اور بعد ازاں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیو کے تناظر میں رپورٹ کیے گئے ہیں۔