گورنر کنڈی اور امیر مقام کی ملاقات، گورنر راج کے امکانات پر بات چیت، گورنر راج کے تمام تقاضے پورے ہیں، لگا تو کنڈی ہی لیڈ کریں گے، امیر مقام کی پریس کانفرنس

پشاور، 28 ستمبر: خیبرپختونخوا میں امن و امان کی بگڑتی صورتحال، صوبائی حکومت کی کارکردگی، متنازعہ قانون سازی اور تحریک انصاف کے پشاور سے اسلام آباد لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سیاسی کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی ہے، گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اہم پارلیمنٹیرینز کے ہمراہ وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام سے ملاقات کی، جبکہ بعد ازاں امیر مقام نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
گورنر فیصل کریم کنڈی نے پارلیمنٹیرینز کے ہمراہ امیر مقام سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، سیاسی خلفشار اور دیگر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد تجاویز پر مشاورت بھی کی گئی۔
ملاقات میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سردار فتح اللہ خان میاں خیل، این ڈی ایم کے سربراہ و رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ، پاکستان پیپلز پارٹی کے خیبرپختونخوا اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر احمد کریم کنڈی، پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات رحمت سلام خٹک، ایم پی اے صوبیہ خان اور سابق سینیٹر بہرہ مند تنگی شریک ہوئے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں صوبے میں امن و امان کی صورتحال، صوبائی حکومت کی جانب سے متنازعہ قانون سازی، پشاور سے اسلام آباد لانگ مارچ کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال اور اس حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی پر بھی تفصیلی مشاورت کی گئی۔ شرکاء نے خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی پر تشویش کا اظہار کیا اور موجودہ صورتحال کے تناظر میں سیاسی و انتظامی اقدامات پر غور کیا۔
ملاقات کے بعد امیر مقام نے پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ خیبرپختونخوا کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی جماعت کو عوامی حمایت حاصل نہیں رہی۔
وفاقی وزیر نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر کرپشن اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی نے صوبے میں کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے اور انہیں بہت جلد قانون کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ وزیراعلیٰ صبح و شام سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں جبکہ صوبے کے معاملات پر توجہ نہیں دے رہے۔
امیر مقام نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ہسپتالوں سے لے کر سکولوں تک صورتحال انتہائی ابتر ہے، جبکہ دہشتگردی کے باعث عام شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اپنے حقوق کے لیے صوبائی حکومت سے سوال کریں۔
مذاکرات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم عدالتوں سے سزا یافتہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر کوئی بات نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو سزا عدالتوں نے دی ہے، اس لیے ان کی رہائی حکومت کے اختیار میں نہیں بلکہ عدالتوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ مذاکرات کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ مذاکرات کی پوری بحث صرف ایک قیدی کی رہائی تک محدود کردی جائے۔ ان کے بقول حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
پشاور سے اسلام آباد لانگ مارچ کے معاملے پر وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کے دعوؤں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے 40 لاکھ افراد نکالنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن عین وقت پر مارچ مؤخر کردیا گیا۔ ان کے بقول 40 لاکھ تو دور کی بات، پی ٹی آئی ہزاروں افراد بھی جمع نہیں کرسکتی اور اس کی سیاسی سرگرمیوں سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اب بھی اسی نوعیت کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
امیر مقام نے تحریک انصاف پر دہشتگردوں کی آباد کاری میں مبینہ سہولت کاری کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ پی ٹی آئی مبینہ طور پر دہشتگردوں کی واپسی اور آباد کاری کی خواہش مند ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کی قیادت ملک بھر میں آزادانہ سیاسی سرگرمیاں کررہی ہے جبکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو دہشتگردی کے خطرات کا سامنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا دہشتگردی کی شدید لپیٹ میں ہے، عوام اور سکیورٹی ادارے قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے امن و امان کے مسئلے پر مؤثر حکمت عملی نظر نہیں آتی۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کی ناکامی کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں۔
گورنر راج کے امکان سے متعلق سوال پر امیر مقام نے کہا کہ آئین اور قانون میں گورنر راج کی گنجائش موجود ہے اور اس کے تمام آئینی و قانونی تقاضے بھی پورے ہیں، تاہم فی الحال اس معاملے پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
خیبرپختونخوا میں سیاسی صورتحال کے حوالے سے ہونے والی گورنر اور وفاقی وزیر کی ملاقات اور اس کے فوراً بعد امیر مقام کی پریس کانفرنس نے صوبائی حکومت اور وفاق کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کو مزید نمایاں کردیا ہے۔ ایک جانب صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کو ذمہ دار قرار دے رہی ہیں تو دوسری جانب لانگ مارچ، متنازعہ قانون سازی، صوبائی حکومت کی کارکردگی اور گورنر راج جیسے معاملات نے سیاسی محاذ کو مزید گرم کردیا ہے۔
ملاقات میں شریک رہنماؤں اور امیر مقام کے بیانات سے واضح ہے کہ خیبرپختونخوا میں آنے والے دنوں میں سیاسی کشمکش مزید بڑھنے کا امکان ہے، جبکہ لانگ مارچ کے اعلان اور امن و امان کی صورتحال کے باعث وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان اختلافات بھی مزید نمایاں ہوگئے ہیں۔