گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، اقتدار کی قربانی دینے کو تیار ہوں: سہیل آفریدی

پشاور، 28 ستمبر: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکانات سے متعلق بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی دھمکیوں سے وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور اپنے نظریے اور صوبے کے حقوق کی خاطر اقتدار اور کرسی کی قربانی دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
پشاور میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق اعلیٰ سطح کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق میں بیٹھے حکمران اپنی غلط پالیسیوں کو چھپانے کے لیے خیبرپختونخوا کے خلاف جھوٹے بیانیے تراش رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز اور عوام متفقہ طور پر مطالبہ کرچکے ہیں کہ وفاق دہشت گردی کے خلاف اپنی پالیسی پر فوری نظرثانی کرے، تاہم پالیسی میں اصلاحات کرنے کے بجائے صوبے پر الزام تراشی کی جا رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سنجیدہ ہے، تاہم موجودہ حکمت عملی کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر پالیسی کے لیے صوبائی حکومت، پولیس، انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی تجویز کردہ پالیسی پر عملدرآمد کیا جائے تو امن و امان کی صورتحال میں 100 دن کے اندر نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، اس لیے صوبے کو محض مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے دہشت گردی کے بنیادی محرکات اور موجودہ پالیسی کے نتائج کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبائی حکومت امن و امان کے قیام کے لیے اپنے وسائل استعمال کر رہی ہے اور پولیس، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ اداروں کی استعداد بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے ضروری وسائل، سیکیورٹی آلات اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف خیبرپختونخوا کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، اس لیے وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر رابطے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے ہی اس چیلنج کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کے ساتھ تصادم نہیں چاہتی، تاہم صوبے کے حقوق، عوام کے تحفظ اور اپنی سیاسی پالیسی پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
دریں اثنا وفاقی وزیر امیر مقام نے آج پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج ایک آپشن ہے اور اس کے لیے قانونی تقاضے پورے ہیں۔ گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی گورنر راج کے معاملے پر آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی بات کی ہے۔