مراکش میں تاریخی پیش رفت، فاطمہ الزہراء المنصوری پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر

رباط، 30 ستمبر: مراکش کے شاہ محمد ششم نے منگل کے روز مراکش شہر کی میئر اور آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی کی رہنما فاطمہ الزہراء المنصوری کو ملک کی پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر کرتے ہوئے نئی حکومت تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپ دی۔
شاہی محل کے مطابق شاہ محمد ششم نے المنصوری سے رباط کے شاہی محل میں ملاقات کے بعد انہیں حکومت تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ ان کی تقرری 23 ستمبر کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی کی کامیابی کے بعد عمل میں آئی۔
آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی نے 395 رکنی ایوان نمائندگان میں 97 نشستیں حاصل کرکے سب سے بڑی پارلیمانی جماعت بننے کا اعزاز حاصل کیا، تاہم حکومت بنانے کے لیے درکار 198 نشستوں کی سادہ اکثریت حاصل نہیں کرسکی۔ نیشنل ریلی آف انڈیپنڈنٹس 66 نشستوں کے ساتھ دوسرے، استقلال پارٹی 65 نشستوں کے ساتھ تیسرے جبکہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی 54 نشستوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہی۔
مراکش کے آئینی نظام کے تحت بادشاہ پارلیمانی انتخابات میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت سے وزیر اعظم مقرر کرتا ہے۔ حکومت تشکیل دینے کے لیے المنصوری کو دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کرکے اتحادی حکومت بنانا ہوگی۔
فاطمہ الزہراء المنصوری نے تقرری کے بعد اپنے بیان میں اسے تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مراکش کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون حکومت کی سربراہی کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے اور یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ملک کی تمام خواتین کے لیے باعث فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے اپنی جماعت کے اندر مشاورت کریں گی، جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں سے حکومت سازی کے لیے بات چیت شروع کی جائے گی۔
فاطمہ الزہراء المنصوری 1976 میں مراکش شہر میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور فرانس کی یونیورسٹی آف مونٹ پیلیئر سے اعلیٰ قانونی تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ امریکا کی نیویارک یونیورسٹی سے اینگلو سیکسن بزنس لا میں ڈپلومہ کیا۔ وہ 2002 سے مراکش میں وکالت کے شعبے سے بھی وابستہ رہیں۔
ان کا سیاسی سفر 2007 میں موومنٹ فار آل ڈیموکریٹس میں شمولیت سے شروع ہوا۔ 2008 میں آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی کے قیام کے وقت وہ اس کی بانی شخصیات میں شامل تھیں۔
2009 میں فاطمہ الزہراء المنصوری پہلی مرتبہ مراکش شہر کی میئر منتخب ہوئیں اور شہر کی پہلی خاتون میئر بنیں۔ 2015 میں میئر کا عہدہ چھوڑنے کے بعد وہ 2021 میں دوبارہ اس منصب پر منتخب ہوئیں۔
المنصوری نے 2021 میں قومی حکومت میں شمولیت اختیار کی اور قومی منصوبہ بندی، شہری ترقی، ہاؤسنگ اور شہری پالیسی کی وزیر مقرر ہوئیں۔ وہ پارلیمان کی رکن بھی رہ چکی ہیں اور متعدد مرتبہ ایوان نمائندگان کے لیے منتخب ہوئیں۔
حالیہ انتخابات میں مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً 38 فیصد رہا، جو 2007 کے بعد سب سے کم شرح ہے۔ تقریباً 15.8 ملین رجسٹرڈ ووٹرز میں سے تقریباً 6 ملین افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔
آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی پارٹی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران پانچ سالہ مدت میں اوسطاً پانچ فیصد سالانہ اقتصادی شرح نمو، تقریباً دو فیصد افراط زر اور کم از کم 10 لاکھ نئی ملازمتیں پیدا کرنے کے اہداف پیش کیے تھے۔
نئی حکومت کو بے روزگاری، مہنگائی، زندگی کے بڑھتے اخراجات، صحت اور تعلیم کی سہولیات اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی بے چینی سمیت متعدد معاشی و سماجی مسائل کا سامنا ہوگا۔ اس کے علاوہ 2030 کے فٹ بال عالمی کپ کی تیاری بھی نئی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہوگی، جس کی مشترکہ میزبانی مراکش، پرتگال اور اسپین کریں گے۔
فاطمہ الزہراء المنصوری عرب دنیا میں وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہونے والی دوسری خاتون بھی بن گئی ہیں۔ اس سے قبل تیونس کی نجلا بودن اکتوبر 2021 سے اگست 2023 تک تیونس کی وزیر اعظم رہ چکی ہیں۔