چین نے دنیا کا پہلا کمرشل برین چپ امپلانٹ متعارف کروا دیا

شنگھائی (نمائندہ خصوصی)۔ میڈیکل سائنس اور نیورو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں چین نے دنیا کا پہلا باقاعدہ منظور شدہ برین-کمپیوٹر انٹرفیس (BCI) امپلانٹیشن آپریشن کامیابی سے مکمل کر لیا ہے۔ یہ منفرد سرجری چین کے شہر شنگھائی میں واقع فوڈان یونیورسٹی سے منسلک مشہور ‘ہواشان ہسپتال’ میں انجام دی گئی، جہاں ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ (Spinal Cord Injury) کے باعث دونوں ہاتھوں کی حرکت اور پکڑنے کی صلاحیت سے محروم مریض کے دماغ میں جدید ترین ‘نیورل الیکٹرانک اپرچونٹی’ (NEO) سسٹم نصب کیا گیا۔ جیسے اقوام متحدہ میں پاکستان کا نوجوانوں پر مبنی مصنوعی ذہانت کا وژن ایک اہم پیشرفت ہے، اسی طرح یہ چینی ٹیکنالوجی طبی دنیا میں انقلاب برپا کر رہی ہے۔
NEO سسٹم: جدید ترین ٹیکنالوجی کی کامیابی
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق، آپریشن کے فوراً بعد کیے گئے ٹیسٹوں میں آلے نے دماغ کے بیرونی حصے سے انتہائی مستحکم اور اعلیٰ معیار کے سگنلز وصول کرنا شروع کر دیے ہیں اور مریض کی حالت بالکل نارمل اور مستحکم ہے۔ یہ تاریخی آپریشن اس لحاظ سے بھی دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے کیونکہ چین نے اس ٹیکنالوجی کے تجارتی استعمال میں امریکی کمپنی ‘نیورالنک’ کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایلون مسک کی نیورالنک چپس ابھی تک تجرباتی مراحل اور انسانی آزمائشوں تک محدود ہیں، جبکہ چین کے نیشنل میڈیکل پروڈکٹس ایڈمنسٹریشن نے رواں سال مارچ میں ہی ‘NEO’ سسٹم کو تجارتی بنیادوں پر عام مریضوں کے علاج کے لیے باقاعدہ منظور کر لیا تھا، جس کے بعد یہ دنیا کا پہلا قانونی طور پر منظور شدہ کمرشل برین امپلانٹ بن گیا ہے۔
محفوظ اور موثر نیوریکل ٹیکنالوجی
اس سسٹم کو شنگھائی کی نیورو ٹیکنالوجی کمپنی ‘Neuracle’ نے سنگھوا یونیورسٹی کے ماہرین کے اشتراک سے تیار کیا ہے، اور اس کی سب سے بڑی خاصیت اس کا محفوظ ہونا ہے۔ جہاں امریکی نیورالنک چپ کی باریک سوئیاں براہ راست دماغ کے نازک حصوں کے اندر پیوست کی جاتی ہیں، وہیں چینی NEO سسٹم کو دماغ کی حفاظتی جھلی کے اوپر نصب کیا جاتا ہے، جس سے دماغی خلیات کو نقصان پہنچنے یا انفیکشن کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔ یہ جدید نظام بنیادی طور پر مریض کی سوچ کو براہ راست حرکت میں تبدیل کرتا ہے۔ جب مفلوج مریض اپنے ہاتھ کو ہلانے یا کسی چیز کو پکڑنے کے بارے میں سوچتا ہے، تو دماغ میں نصب یہ چپ ان لہروں کو فوری طور پر ریکارڈ کر کے وائرلیس طریقے سے بیرونی کمپیوٹر سسٹم کو بھیجتی ہے۔
مریضوں کیلئے نئی امید
وہاں موجود جدید الگورتھم ان سگنلز کو ڈی کوڈ کر کے مریض کے ہاتھ پر پہنائے گئے نیومیٹک روبوٹک دستانے کو کمانڈ بھیجتے ہیں، جس کے نتیجے میں دستانہ حرکت کرتا ہے اور مریض کا ہاتھ چیزوں کو پکڑنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی نہ صرف مریض کو فوری مدد فراہم کرتی ہے، بلکہ مسلسل استعمال سے یہ دماغ کے مردہ اعصابی راستوں کو دوبارہ فعال کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔ اس انقلابی ٹیکنالوجی کو عام شہریوں کی پہنچ میں لانے کے لیے شنگھائی حکومت نے اسے مقامی ہیلتھ انشورنس اسکیم میں بھی شامل کر لیا ہے، جس سے اب ریڑھ کی ہڈی کی چوٹوں اور فالج کا شکار لاکھوں مریضوں کے لیے دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور اپنے ہاتھوں سے کام کرنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ جس طرح حکومت کا میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفافیت کیلئے اہم عزم مستحکم ہے، اسی طرح چینی حکومت بھی عوام کی صحت کے لیے پرعزم ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کی چین کو گوشت برآمدات بڑھانے کیلئے سرمایہ کاری کی دعوت جیسے اقتصادی اقدامات کے ساتھ ساتھ اب تکنیکی تعاون کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔