مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

15 اکتوبر سے چیک کلیئرنگ کا نظام تبدیل، اصل چیک کی بجائے ڈیجیٹل تصویر سے ادائیگی ہوگی

اسلام آباد: پاکستان میں بینکوں کے درمیان چیک کلیئرنگ کا روایتی طریقہ کار تبدیل ہونے جا رہا ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان ایکسپریس کلیئرنگ سسٹم (پی ای سی ایس) متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا پائلٹ مرحلہ 15 اکتوبر 2026 سے شروع ہوگا۔

نئے نظام کے تحت چیک کلیئرنس کے لیے ایک بینک سے دوسرے بینک تک اصل کاغذی چیک پہنچانے کے بجائے اس کی الیکٹرانک تصویر اور متعلقہ ڈیٹا استعمال کیا جائے گا۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد چیک کلیئرنگ کے عمل کو تیز کرنے کے ساتھ ساتھ اسے زیادہ محفوظ اور مؤثر بنانا ہے۔

نئے طریقہ کار کے مطابق صارف کی جانب سے بینک میں چیک جمع کرائے جانے کے بعد اسے اسکین کیا جائے گا اور چیک کی ڈیجیٹل تصویر اور متعلقہ معلومات کلیئرنگ ہاؤس نِفٹ کو ارسال کی جائیں گی۔ نِفٹ یہ معلومات متعلقہ بینک تک پہنچائے گا، جہاں چیک کی تصویر اور ڈیٹا کی جانچ کے بعد ادائیگی یا چیک مسترد کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

نئے نظام میں اصل کاغذی چیک فوری طور پر دوسرے بینک کو بھیجنے کے بجائے ابتدائی طور پر اسی بینک کے پاس محفوظ رکھا جائے گا جہاں چیک جمع کرایا گیا ہے۔ تاہم کسی قسم کے شبہ، تصدیق کی ضرورت یا دیگر مخصوص صورتحال میں متعلقہ بینک ’ڈیفر فار فزیکل‘ طریقہ کار کے تحت اصل چیک طلب کرسکے گا۔

چیک کی ڈیجیٹل اسکیننگ کے لیے بھی مختلف انتظامات کیے گئے ہیں۔ جن بینک برانچز میں مطلوبہ اسکیننگ سہولت دستیاب ہوگی وہاں چیک کی تصویر براہ راست نِفٹ کے نظام کو بھیجی جائے گی، جبکہ اسکیننگ کی سہولت سے محروم برانچز میں نِفٹ چیک وصول کرکے اسے اسکین کرے گا اور ڈیجیٹل تصویر متعلقہ بینک کو فراہم کرے گا۔

اسٹیٹ بینک کے منصوبے کے مطابق پی ای سی ایس کا ابتدائی پائلٹ مرحلہ 15 اکتوبر سے 15 نومبر 2026 تک منتخب بینکوں اور متعلقہ اداروں تک محدود رہے گا۔ دوسرے مرحلے میں 16 نومبر سے 31 دسمبر 2026 تک نظام کو مزید بینکوں اور برانچز تک مرحلہ وار توسیع دی جائے گی۔

ملک بھر میں نئے چیک کلیئرنگ نظام کو مکمل طور پر فعال کرنے کے لیے 30 اپریل 2027 کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے۔

نئے نظام کے نفاذ کے بعد چیک کی کلیئرنگ کے لیے کاغذی دستاویز کی جسمانی منتقلی پر انحصار کم ہوجائے گا اور الیکٹرانک طریقے سے چیک کی تصدیق اور کلیئرنگ ممکن ہوگی۔

واضح رہے کہ نئے نظام کا مطلب کاغذی چیک کا خاتمہ نہیں ہے۔ صارفین بدستور کاغذی چیک جاری اور بینک میں جمع کراسکیں گے، تاہم بینکوں کے درمیان کلیئرنگ کے مرحلے میں بنیادی طور پر چیک کی ڈیجیٹل تصویر اور متعلقہ الیکٹرانک ڈیٹا استعمال کیا جائے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں