جرمنی اور فرانس یورپی یونین کو معاشی نقصان پہنچانے والے ممالک کے خلاف متحد، نیا جوابی نظام بنانے کی تجویز

برلن/پیرس: فرانس اور جرمنی نے یورپی یونین کی معیشت اور صنعتی بنیاد کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے والی غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں کے خلاف فوری اور سخت جوابی اقدامات کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز دے دی ہے، جس کے تحت یورپی کمیشن کو سنگین صورتحال میں کسی ملک یا کمپنی کے خلاف تیزی سے کارروائی کرنے کے اختیارات دینے کی بات کی گئی ہے۔ اگرچہ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں اور جرمن چانسلر فریڈرش میرس کے مشترکہ مراسلے میں کسی ملک کا نام نہیں لیا گیا، تاہم موجودہ حالات میں اس تجویز کا سب سے ممکنہ ہدف چین سمجھا جا رہا ہے۔
جرمن چانسلر فریڈرش میرس اور فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لاین کو مشترکہ خط ارسال کیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ ’’منظم انداز میں مارکیٹ کو مسخ کرنے والی پالیسیاں‘‘ یورپی یونین کی معیشت، صنعتی بنیاد، مسابقت اور مستقبل کی خودمختاری کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔ دونوں رہنماؤں کے مطابق موجودہ عالمی تجارتی نظام میں تجارت کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کرنے، مارکیٹ میں مصنوعی بگاڑ اور عالمی معاشی عدم توازن نے یورپی کمپنیوں کے لیے مسابقتی ماحول کو متاثر کیا ہے۔
فرانس اور جرمنی کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے پاس موجود موجودہ تجارتی دفاعی نظام کافی نہیں اور برسلز کو ایسا مؤثر طریقہ کار درکار ہے جس کے ذریعے کسی بیرونی ملک کی جانب سے سنگین اور منظم تجارتی یا معاشی دباؤ کی صورت میں چند دنوں کے اندر جوابی اقدامات کیے جا سکیں۔ جرمن حکومت کے مطابق موجودہ یورپی تجارتی پالیسی میں فیصلہ سازی کا عمل بہت سست ہے اور نئی تجویز کا مقصد یورپی کمیشن کو تیزی سے کارروائی کرنے کی صلاحیت دینا ہے۔
تجویز کا سب سے اہم حصہ ایک ایسے نئے تجارتی آلے کا قیام ہے جس کے ذریعے کسی تیسرے ملک کی جانب سے یورپی سنگل مارکیٹ میں ’’شدید اور منظم بگاڑ‘‘ پیدا کرنے کی صورت میں اس ملک کی یورپی منڈی تک رسائی محدود یا انتہائی سنگین حالات میں فوری طور پر معطل کی جا سکے گی۔ مجوزہ نظام کے تحت یورپی کمیشن کارروائی شروع کر سکے گا، جبکہ رکن ممالک کو اسے روکنے کا اختیار حاصل ہوگا، لیکن اس کے لیے اہل اکثریت درکار ہوگی۔ یوں موجودہ نظام کے مقابلے میں جوابی کارروائی کا عمل خاصا تیز ہو سکتا ہے۔
اس تجویز میں کسی ایک ملک کو ہدف نہیں بنایا گیا بلکہ اسے ’’ملک سے قطع نظر‘‘ قابلِ اطلاق رکھنے کی بات کی گئی ہے۔ تاہم دستاویز میں ڈمپنگ، بڑے پیمانے پر سرکاری سبسڈی، صنعتی اضافی پیداوار، کرنسی سے متعلق پابندیوں اور بعض شعبوں میں غیر معمولی مارکیٹ غلبے جیسے عوامل کو مارکیٹ بگاڑ کی مثالوں کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یورپی یونین کے چین کے ساتھ تجارتی تعلقات میں یہی معاملات طویل عرصے سے تنازع کا باعث ہیں۔
فرانس اور جرمنی نے ایک دوسرے نئے طریقہ کار کی بھی تجویز دی ہے جس کا مقصد یورپ کو کسی ایک ملک یا محدود تعداد میں سپلائرز پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے بچانا ہے۔ اس کے تحت اہم اشیا، خام مال اور صنعتی مصنوعات کی سپلائی چین میں تنوع پیدا کرنے، موجودہ انحصار کم کرنے اور مستقبل میں کسی ایک ملک یا کمپنی پر حد سے زیادہ انحصار کے خطرات کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔
مشترکہ دستاویز میں یورپی یونین کے تجارتی دفاعی اقدامات کو مزید وسیع کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ فرانس اور جرمنی چاہتے ہیں کہ یورپی کمیشن اینٹی ڈمپنگ، اینٹی سبسڈی اور دیگر تجارتی تحقیقات زیادہ تیزی سے شروع کرے اور ان کا دائرہ صرف کسی ایک مصنوعات تک محدود رکھنے کے بجائے پورے صنعتی شعبوں تک وسیع کیا جا سکے۔ کیمیکلز، پی ای ٹی اور ہائبرڈ گاڑیوں جیسے شعبوں کو خاص طور پر توجہ کے قابل قرار دیا گیا ہے۔
چین کا نام خط میں نہ ہونے کے باوجود یورپی یونین اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تجارتی عدم توازن اس اقدام کا بنیادی پس منظر بن گیا ہے۔ یورپی یونین کے مطابق 2025 میں چین کے ساتھ اس کا اشیا کا تجارتی خسارہ تقریباً 360 ارب یورو تک پہنچ گیا تھا، جبکہ یورپی صنعتی حلقے چین کی سرکاری سبسڈی، اضافی صنعتی پیداوار اور کم قیمت مصنوعات کی یورپی منڈی میں بڑھتی ہوئی آمد پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
فرانس اور جرمنی کی یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب یورپی یونین اور چین کے درمیان تجارتی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات بھی جاری ہیں۔ یورپی یونین کے تجارتی کمشنر ماروش شیفچووچ 8 اور 9 اکتوبر کو بیجنگ میں چینی وزیر تجارت وانگ وین تاؤ سے ملاقات کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں یورپی یونین چین کے ساتھ تجارتی عدم توازن اور یورپی مارکیٹ میں چینی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی موجودگی کے معاملات پر بات کرے گی۔
ادھر چین نے فرانس اور جرمنی کی تجویز کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’تحفظ پسند‘‘ تجارتی پالیسی کی طرف قدم قرار دیا ہے۔ چین کی وزارت تجارت نے 6 اکتوبر کو کہا کہ تحفظ پسندی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ نہیں کر سکتی اور سپلائی چینز کو توڑنے یا ممالک کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ بیجنگ نے فرانس اور جرمنی پر زور دیا کہ وہ آزاد تجارت، کھلے تعاون اور عالمی تجارتی تنظیم کے قواعد کی پاسداری کریں۔
چینی وزارت خارجہ نے بھی یورپی یونین اور چین کے اقتصادی و تجارتی تعلقات کو باہمی مفاد پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں فریقوں کو اختلافات مذاکرات اور مشاورت کے ذریعے حل کرنے چاہئیں اور عالمی صنعتی و سپلائی چینز کے استحکام کو برقرار رکھنا چاہیے۔
دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرش میرس نے واضح کیا ہے کہ مشترکہ خط میں کسی مخصوص ملک کو ہدف نہیں بنایا گیا۔ ان کے مطابق جرمنی اور فرانس کا مقصد یورپی یونین کو ایسا فوری ردعمل دینے والا نظام فراہم کرنا ہے جسے دنیا کے مختلف ممالک کی ’’غیر منصفانہ تجارتی پالیسیوں‘‘ کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ تاہم چین کے ساتھ موجودہ تجارتی تنازعات، یورپی یونین کا بڑا تجارتی خسارہ اور چین کی صنعتی سبسڈی کے بارے میں یورپی تحفظات کے باعث عالمی سطح پر اسے بنیادی طور پر چین کے خلاف ممکنہ نئے تجارتی ہتھیار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ تجویز ابھی قانون نہیں بنی۔ نئے تجارتی نظام کو عملی شکل دینے کے لیے یورپی یونین کی رکن ریاستوں اور یورپی پارلیمنٹ کی منظوری سمیت قانونی مراحل مکمل کرنا ہوں گے۔ اگر یہ نظام منظور ہو جاتا ہے تو یورپی کمیشن کو موجودہ طریقہ کار کے مقابلے میں غیر منصفانہ تجارتی اقدامات کے خلاف کہیں زیادہ تیز اور مؤثر ردعمل دینے کا اختیار مل سکتا ہے، جس سے چین اور یورپی یونین کے درمیان پہلے سے موجود تجارتی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔