مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
قومی

جرمنی میں خفیہ ادارے کا سابق سربراہ آگسٹ ہیننگ سنگین غداری اور جاسوسی کے الزام میں گرفتار

برلن: جرمنی کے وفاقی خفیہ ادارے ’بی این ڈی‘ کے سابق سربراہ آگسٹ ہیننگ کو ریاستی رازوں کی جاسوسی، غداری کی کوشش اور غیر ملکی خفیہ ادارے کے لیے مبینہ جاسوسی کے سنگین الزامات میں گرفتار کرلیا گیا ہے، جبکہ ان کے سابق دفتر سربراہ مانفریڈ ڈی کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

جرمنی کے وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر کے مطابق دونوں افراد کو 6 اکتوبر 2026 کو وفاقی عدالتِ انصاف کے تفتیشی جج کی جانب سے جاری کیے گئے گرفتاری وارنٹس پر وفاقی فوجداری پولیس کے اہلکاروں نے حراست میں لیا۔ آگسٹ ہیننگ کو جرمنی کے صوبے باویریا کے ضلع باد تولز-وولفراٹشاؤزن میں، جبکہ مانفریڈ ڈی کو ریاست نارتھ رائن ویسٹ فیلیا کے ضلع اسٹین فورت میں گرفتار کیا گیا۔ دونوں سے متعلق مقامات کے علاوہ برلن میں بھی تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق 80 سالہ آگسٹ ہیننگ پر غدارانہ جاسوسی، ریاستی رازوں کی جاسوسی، غداری کی کوشش اور خفیہ ادارے کے ایجنٹ کی حیثیت سے سرگرمیوں کے سنگین شبہات ہیں، جبکہ مانفریڈ ڈی پر غداری کی کوشش اور غدارانہ جاسوسی میں معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ حکام نے تاہم ابھی یہ نہیں بتایا کہ مبینہ طور پر کس غیر ملکی خفیہ ادارے کے لیے معلومات فراہم کی گئیں۔

وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر 2010 کے موسم بہار میں ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت مانفریڈ ڈی رقم کے عوض بی این ڈی سے حساس معلومات حاصل کرکے آگسٹ ہیننگ کو فراہم کرتا رہا۔ ہیننگ اس معلومات کو اپنی نجی مشاورتی سرگرمیوں میں استعمال کرتے تھے۔

تحقیقات کے مطابق کئی برسوں کے دوران مانفریڈ ڈی نے ہیننگ کو تقریباً 2 ہزار دستاویزات فراہم کیں، جن میں بڑی تعداد ایسی خفیہ معلومات پر مشتمل تھی جو صرف بی این ڈی کے داخلی استعمال کے لیے مختص تھیں۔ ان میں جرمنی کی اعلیٰ حکومتی اور سکیورٹی قیادت کے لیے تیار کیے جانے والے حساس انٹیلی جنس بریفنگ مواد بھی شامل تھا۔

جرمن حکام کے مطابق ایک موقع پر ہیننگ نے مانفریڈ ڈی سے حاصل کردہ خفیہ معلومات استعمال کرکے ایک غیر ملکی خفیہ ادارے کے اہلکار کے لیے تجزیاتی رپورٹ بھی تیار کی۔ تاہم تفتیش کار ابھی تک یہ تعین نہیں کرسکے کہ یہ مواد مطلوبہ غیر ملکی اہلکار تک پہنچا یا نہیں۔ اس کے علاوہ ہیننگ ایک دوسرے غیر ملکی خفیہ ادارے کے نمائندے سے بھی کئی برس تک رابطے میں رہے اور اسے سیاسی معلومات فراہم کرتے رہے، جن میں بعض معلومات مانفریڈ ڈی سے حاصل کردہ مواد پر مبنی تھیں۔

جرمن میڈیا کے مطابق معاملے کی تفتیش میں سامنے آنے والے بعض دستاویزات کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام، روسی فوج اور جرمنی کے غیر ملکی شراکت دار خفیہ اداروں سے حاصل کردہ معلومات سے بھی بتایا گیا ہے۔ تاہم وفاقی پراسیکیوٹر کے سرکاری بیان میں ان مخصوص ممالک یا غیر ملکی اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے گئے۔ جرمن میڈیا کی تحقیقات کے مطابق مبینہ غیر ملکی خفیہ ادارہ روس کا نہیں ہے۔

آگسٹ ہیننگ دسمبر 1998 سے نومبر 2005 کے اختتام تک جرمنی کے وفاقی خفیہ ادارے ’بی این ڈی‘ کے سربراہ رہے۔ ان کے دور میں مانفریڈ ڈی ان کے دفتر کے سربراہ تھے۔ بعد ازاں ہیننگ جرمن وزارت داخلہ میں ریاستی سیکریٹری بنے اور مانفریڈ ڈی بھی کچھ عرصے تک ان کے ساتھ کام کرتے رہے۔ مانفریڈ ڈی مارچ 2012 سے مارچ 2026 تک بی این ڈی کے متعدد سربراہوں کے دفتر کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہے، جس دوران انہیں حساس خفیہ معلومات تک رسائی حاصل تھی۔

جرمن وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق موجودہ جاسوسی کیس کا آغاز ستمبر 2025 میں آگسٹ ہیننگ کے گھر کی تلاشی کے دوران ملنے والے مواد سے ہوا۔ یہ تلاشی ہیمبرگ کے پراسیکیوٹر دفتر کی جانب سے کاروباری خاتون کرسٹینا بلاک سے متعلق ایک الگ تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی تھی۔ بعد میں حساس بی این ڈی دستاویزات سے متعلق معاملہ مئی 2026 کے آغاز میں وفاقی پراسیکیوٹر کے دفتر کو منتقل کیا گیا، جس نے بی این ڈی اور وفاقی فوجداری پولیس کے تعاون سے تحقیقات شروع کردیں۔

جرمن نشریاتی ادارے اے آر ڈی کے مطابق اگر ہیننگ کے خلاف موجود الزامات ثابت ہوجاتے ہیں تو یہ جرمنی کی جنگِ عظیم دوم کے بعد کی تاریخ میں کسی سابق اعلیٰ ترین انٹیلی جنس عہدیدار کے خلاف غداری اور جاسوسی کا غیر معمولی نوعیت کا مقدمہ بن سکتا ہے۔ تاہم حکام کی جانب سے تحقیقات ابھی جاری ہیں اور الزامات کا عدالتی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق آگسٹ ہیننگ اور مانفریڈ ڈی کو 6 اور 7 اکتوبر کو وفاقی عدالتِ انصاف کے تفتیشی جج کے سامنے پیش کیا جانا تھا، جہاں انہیں گرفتاری کے الزامات سے باضابطہ طور پر آگاہ کیا جائے گا اور ان کے جسمانی ریمانڈ/تحقیقی حراست کے معاملے پر فیصلہ کیا جائے گا۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

hanif saabir

اپنی رائے دیں