مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

کراچی پورٹ پر 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیوں کا جہاز پہنچ گیا

کراچی پورٹ پر 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیوں کا جہاز پہنچ گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کی سمندری اور لاجسٹکس صنعت میں ایک اہم سنگِ میل عبور کرتے ہوئے دو ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیوں (EVs) پر مشتمل ملک کا پہلا رول آن/رول آف (RoRo) جہاز ایم وی گرانڈے شنگھائی (M.V. Grande Shanghai) کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا۔

تاریخی پیش رفت: پہلی الیکٹرک گاڑیوں کی کھیپ

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے جمعہ کو اس پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 220 میٹر طویل RoRo جہاز کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ (KGTML)، کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے ٹرمینل پر کامیابی سے پہنچا، جو پاکستان کے میری ٹائم اور لاجسٹکس شعبے کے لیے ایک تاریخی کامیابی ہے۔ وزیر بحری امور نے بتایا کہ گزشتہ ماہ میری ٹائم امور سے متعلق کمیٹی کے اجلاس میں انہوں نے الیکٹرک گاڑیوں کی RoRo شپمنٹ کی منظوری دی تھی، جس کے نتیجے میں یہ پہلی کھیپ پاکستان پہنچی ہے۔

ماحولیاتی ٹرانسپورٹ اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ

انہوں نے کہا کہ اس جہاز کی کامیاب آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی بندرگاہیں اب بین الاقوامی معیار کے مطابق خصوصی نوعیت کے کارگو کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان کے عالمی کلین موبلٹی اور پائیدار ٹرانسپورٹ سپلائی چین میں بتدریج شامل ہونے کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ محمد جنید انور چوہدری نے بتایا کہ روایتی کارگو جہازوں کے برعکس رول آن/رول آف (RoRo) جہاز خصوصی طور پر گاڑیوں اور دیگر پہیوں والی مشینری کی نقل و حمل کے لیے تیار کیے جاتے ہیں، جن میں گاڑیوں کو براہِ راست جہاز پر چڑھایا اور اتارا جاتا ہے۔

بندرگاہی آپریشنز میں بہتری کے عزم

اس طریقہ کار سے کارگو ہینڈلنگ کا وقت نمایاں طور پر کم ہوتا ہے، آپریشنز زیادہ محفوظ بنتے ہیں اور بندرگاہوں کی مجموعی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم وی گرانڈے شنگھائی کی کامیاب برتھنگ کراچی پورٹ ٹرسٹ کے جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی پورٹ آپریشنز اور مؤثر لاجسٹکس نظام کے فروغ کے عزم کی عکاس ہے۔

حکومتی ترجیحات اور مستقبل کے اہداف

وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پاکستان میری ٹائم سیکٹر کو مزید مضبوط بنانے، بندرگاہی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور پاکستان کو عالمی شپنگ نیٹ ورک سے مزید مؤثر انداز میں جوڑنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔ ماہرین کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کی پہلی RoRo شپمنٹ کی آمد مستقبل میں گاڑیوں اور دیگر وہیلڈ کارگو کی درآمد کو زیادہ تیز، محفوظ اور کم لاگت بنانے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ یہ پاکستان میں ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کی جانب بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ اسی طرح کے تکنیکی پاکستان میں ٹیلی کام سیکٹر کیلئے یکساں ای سم پالیسی جیسے اقدامات ملک کی ڈیجیٹل اور صنعتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی خطے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی ہدایت بھی معاشی استحکام کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں