اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کیخلاف سخت کارروائی ہوگی، اسحاق ڈار

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے اور زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ اعلان انہوں نے جمعہ کے روز ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں کے جائزے کے لیے بلائے گئے اجلاس کے دوران کیا۔
اہم نکات
- نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کا عندیہ دیا۔
- اجلاس میں ضروری اشیائے خورونوش کے ملکی ذخائر اور سپلائی چین کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
- حکام نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں خوراک کے وافر ذخائر موجود ہیں اور قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔
- وزیراعظم کی ہدایت پر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مسلسل نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اور سپلائی کی نگرانی
وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت ضروری اشیائے خورونوش کے ذخائر اور قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی، معاون خصوصی برائے وزیراعظم طارق باجوہ، سیکریٹری تجارت اور متعلقہ وفاقی و صوبائی وزارتوں اور محکموں کے سینئر نمائندوں نے شرکت کی۔
کمیٹی نے ملک بھر میں ضروری اشیاء کے ذخائر کی صورتحال، فراہمی کے انتظامات اور قیمتوں کا بغور جائزہ لیا۔ اجلاس میں شرکاء کو بریفنگ دی گئی کہ ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اشیائے خورونوش کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت مارکیٹ میں کسی قسم کی قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے اور اشیاء کی قیمتیں بتدریج مستحکم ہو رہی ہیں۔ زرعی ملک میں بھوک کا بحران کے خدشات کو دور کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے مؤثر حکمت عملی مرتب کی گئی ہے۔
ذخیرہ اندوزوں کے خلاف حکومتی حکمت عملی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق ملکی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متعلقہ حکام کو سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سپلائی چین کو ہر صورت فعال رکھا جائے گا اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کی مسلسل نگرانی کی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی، مصنوعی قلت پیدا کرنے اور عوام سے زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کا مقصد شہریوں کو بلا تعطل اشیائے خوردونوش کی فراہمی یقینی بنانا ہے، جس کے لیے ضلعی انتظامیہ کو بھی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اہم سوالات و جوابات
اشیائے ضروریہ کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ مصنوعی قلت پیدا کرنے اور زائد قیمتیں وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
کیا ملک میں اشیائے خورونوش کی قلت کا خدشہ ہے؟
کابینہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے خوراک کے وافر ذخائر موجود ہیں اور قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔