پاکستان اور چین کے درمیان سوست خنجراب بارڈر گرین چینل فعال

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان اور چین کی کسٹمز انتظامیہ نے سوست-خنجراب سرحد پر زرعی اور متعلقہ مصنوعات کے لیے گرین چینل کو فعال کرنے کے ایک اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ 29 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ہیڈکوارٹرز میں ایک آن لائن تقریب کے دوران اس سوست خنجراب بارڈر گرین چینل کے قیام کو باضابطہ شکل دی گئی جو دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو مزید سہل بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
اہم نکات
- پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کے لیے گرین چینل فعال کرنے کا معاہدہ طے پا گیا۔
- پاکستانی وفد کی سربراہی ممبر کسٹمز آپریشنز سید شکیل شاہ نے کی۔
- معاہدے کے تحت زرعی کھیپوں کی ترجیحی بنیادوں پر پراسیسنگ اور جانچ یقینی بنائی جائے گی۔
- جلد خراب ہونے والی اشیاء کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا تاکہ تاخیر کو کم کیا جا سکے۔
- دونوں ممالک کے درمیان معلومات اور خطرات سے متعلق انتباہات کا تبادلہ بڑھایا جائے گا۔
سوست خنجراب بارڈر گرین چینل کے مقاصد اور فوائد
پاکستانی وفد میں چیف کلکٹر کسٹمز پشاور، کلکٹر کسٹمز گلگت بلتستان، محکمہ تحفظِ نباتات، نیفسا (NAFSA)، پاکستان سنگل ونڈو (PSW) اور وزارتِ تجارت کے نمائندگان کے علاوہ چین میں تعینات پاکستانی سفارت خانے کے کمرشل قونصلر بھی شریک تھے۔ چینی وفد کی قیادت ارومچی کسٹمز کی ڈپٹی ہیڈ اور تاشقورغان کسٹمز کی ڈائریکٹر لی چنگوا نے کی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد باہمی متفقہ فہرست میں شامل زرعی اجناس کی تجارت کو تیز تر بنانا ہے۔
سرحد پار تجارت اور کسٹمز تعاون میں بہتری
کسٹمز نگرانی کو موثر بنانے کے لیے خطرات کی بنیاد پر کنٹرولز کا نفاذ کیا جائے گا، جس سے سرحد پار تجارت کے انتظام میں مزید بہتری آئے گی۔ زرعی تجارت میں وقت کی افادیت کے پیشِ نظر، معاہدے میں جلد خراب ہونے والی اشیاء کی فوری نقل و حرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی انتظامات شامل کیے گئے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر دونوں وفود کے سربراہان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کسٹمز تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اہم سوالات و جوابات
سوست خنجراب بارڈر گرین چینل معاہدے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان باہمی متفقہ فہرست میں شامل زرعی مصنوعات کی تجارت کو ترجیحی بنیادوں پر پراسیسنگ اور جانچ کے ذریعے سہل بنانا ہے۔
معاہدے کے تحت جلد خراب ہونے والی اشیاء کے لیے کیا انتظام کیا گیا ہے؟
معاہدے کے تحت جلد خراب ہونے والی اشیاء پر مشتمل کھیپوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا تاکہ ان کی سرحد پار نقل و حرکت میں کم سے کم تاخیر ہو۔