مرکزی مواد پر جائیں
⛅ اسلام آباد --°
LIVE --:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

پاکستان اب سائبر سکیورٹی کے شعبے میں ٹاپ ٹیئر میں شامل

وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ سائبر سکیورٹی آگاہی ہفتہ کے موقع پر خطاب کر رہی ہیں۔

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے بعد پاکستان اب سائبر سکیورٹی کے شعبے میں ٹاپ ٹیئر کے صفِ اول میں شامل ہو چکا ہے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ سائبر سکیورٹی اب محض آئی ٹی کا نہیں بلکہ ہماری قومی سلامتی، معاشی ترقی اور طرزِ زندگی کا چیلنج ہے۔

اہم نکات

  • پاکستان عالمی سطح پر سائبر سکیورٹی کی درجہ بندی میں نمایاں بہتری کے بعد ٹاپ ٹیئر میں شامل ہو گیا ہے۔
  • جامع سائبر سکیورٹی قانون سازی آخری مراحل میں ہے تاکہ ڈیجیٹل تحفظ کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔
  • نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) اور صوبائی سرٹس اب مکمل طور پر فعال اور رسپانس کے لیے تیار ہیں۔
  • نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو پیکا قانون میں ترامیم کے ذریعے خودمختار ادارہ بنا دیا گیا ہے۔
  • نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور ہائی ٹیک سائبر تربیت کے لیے نسٹ اور نیوٹیک میں خصوصی پروگرام جاری ہیں۔

سائبر سکیورٹی اور قومی سلامتی کا چیلنج

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور یو این ڈی پی کے اشتراک سے منعقدہ ’’سائبر سکیورٹی آگاہی ہفتہ 2026‘‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شزہ فاطمہ خواجہ نے بتایا کہ حکومت نے سکیورٹی آپریشن سینٹرز (ایس او سیز) کو فعال کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم پاکستان کی خصوصی ہدایات پر نوجوان نسل کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ ہماری ایجنسیاں عالمی معیار کی صلاحیتوں سے لیس رہیں۔

والدین کے لیے ڈیجیٹل احتیاطی تدابیر

وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ نے والدین پر زور دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر اور نجی معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔ 12 سے 18 سال کے بچے میٹا ورس اور آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز پر چائلڈ گرومنگ اور سائبر بلینگ جیسے سنگین خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پارک یا مال میں بچوں کی نگرانی کی جاتی ہے، ڈیجیٹل دنیا میں بھی ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ انٹرنیٹ پر کسی بھی مشکوک لنک پر کلک کرنے سے پہلے مکمل تصدیق ضرور کریں۔

اہم سوالات و جوابات

سائبر سکیورٹی قانون سازی کے حوالے سے کیا پیش رفت ہوئی ہے؟

وفاقی وزیر کے مطابق ڈیجیٹل تحفظ کو مزید مستحکم بنانے کے لیے جامع سائبر سکیورٹی قانون سازی آخری مراحل میں ہے۔

بچوں کو ڈیجیٹل خطرات سے بچانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں؟

والدین کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر بچوں کی تصاویر اور رہائشی ایڈریس ظاہر نہ کریں اور آن لائن دنیا میں ان کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کریں۔

شیئر کریں: f 𝕏 ✆ ✈ 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں