مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت کے نظرثانی شدہ پٹرولیم پرائسنگ میکنزم کے تحت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے 21 جولائی کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ملک میں توانائی کے شعبے میں جاری اصلاحات کے تناظر میں یہ فیصلہ عوامی سطح پر انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس پر الیکشن کمیشن کی سیاسی جماعتوں کو مالی گوشوارے جمع کرانے کی ہدایت جیسے انتظامی امور کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسیوں کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا تعین

پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق عالمی منڈی میں نرخوں کے اتار چڑھاؤ اور ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 5 روپے 71 پیسے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 360 روپے 6 پیسے فی لٹر مقرر کر دی گئی ہے۔

پٹرول کی قیمت میں معمولی کمی

دوسری جانب، موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کے لیے ریلیف کے طور پر پٹرول کی قیمت میں 35 پیسے فی لٹر کی معمولی کمی کی گئی ہے۔ اس کمی کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 315 روپے 80 پیسے فی لٹر ہو گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی ان نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ملک بھر میں نافذ العمل ہو جائے گا۔ اس فیصلے سے قبل حکومت نے معاشی استحکام کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان کینولا درآمدی پروٹوکول پر دستخط جیسے اہم تجارتی معاہدے بھی شامل ہیں جو ملکی معیشت کے لیے دور رس نتائج کے حامل ہیں۔

حکومتی پالیسی اور عوامی ردعمل

ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین براہ راست افراطِ زر اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں یہ ردوبدل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بین الاقوامی سطح پر توانائی کے بحران کے سبب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اسی طرح کے معاشی چیلنجز پر قابو پانے کے لیے ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ بھی دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کی ایک کوشش ہے تاکہ خطے میں توانائی کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کیا جا سکے۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں