امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی سول جوہری تعاون معاہدہ

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکہ اور سعودی عرب نے سول جوہری تعاون کے ایک تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت سعودی عرب کو امریکی تعاون سے اپنے پرامن جوہری توانائی پروگرام کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔ اس معاہدے کو دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور تزویراتی تعاون میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ جیسے کہ ماضی میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی امریکی ایگزم بنک حکام سے ملاقات کے دوران اقتصادی تعاون پر بات چیت ہوئی تھی، یہ معاہدہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
معاہدے کے مقاصد اور اہمیت
یہ معاہدہ، جسے “123 ایگریمنٹ” کہا جاتا ہے، سعودی عرب کو امریکی ٹیکنالوجی اور مہارت کی مدد سے جوہری توانائی کے منصوبے تیار کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔ اس کا مقصد مملکت کی توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانا، بجلی کی پیداوار میں تیل پر انحصار کم کرنا اور طویل المدتی اقتصادی منصوبوں کو تقویت دینا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی یو ایس ڈی ایف سی حکام سے ملاقات میں بھی توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں امریکی سرمایہ کاری پر غور کیا گیا تھا۔
امریکی کانگریس میں جائزہ اور سکیورٹی خدشات
یہ معاہدہ اب امریکی کانگریس میں 90 روزہ جائزے کے لیے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اس پر مکمل عملدرآمد ممکن ہوگا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ معاہدے میں جوہری ٹیکنالوجی کے محفوظ اور پرامن استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ضروری حفاظتی اقدامات شامل ہیں، تاہم بعض ناقدین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یورینیم افزودگی کی اجازت مشرقِ وسطیٰ میں جوہری پھیلاؤ کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔
علاقائی اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے اور خطے میں توانائی، سلامتی اور جغرافیائی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس سے قبل سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا مسلم دنیا میں سائنسی تحقیق پر زور بھی خطے کی سائنسی ترقی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے، جو اس نوعیت کے بڑے معاہدوں کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرتا ہے۔