بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی وفاقی حکومت کی اولین ترجیح ہے: وزیراعظم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے بھرپور وسائل کی فراہمی کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک تمام صوبے مساوی طور پر ترقی نہیں کریں گے، تب تک ملک کی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو اسلام آباد میں ’بلوچستان نیشنل ورکشاپ‘ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر تجارت جام کمال، وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر مملکت برائے خزانہ ومحصولات بلال اظہر کیانی سمیت دیگر حکام موجود تھے۔
بلوچستان کی ترقی میں وفاق کا کلیدی کردار
وزیراعظم نے کہا کہ اسلام آباد درحقیقت چاروں صوبوں کے عوام کا مسکن ہے۔ انہوں نے بلوچستان سے آئے ہوئے غیور اور محب وطن بیٹوں اور بیٹیوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ بلوچستان جغرافیائی لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور تخلیقِ پاکستان میں یہاں کے بلوچ اور پختون عوام نے کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ سڑک کا 300 ارب روپے کا منصوبہ اگلے ڈیڑھ دو سال میں مکمل ہو جائے گا، جس سے یہ ’خونی سڑک‘ امن اور ترقی کی شاہراہ میں بدل جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں باقی صوبوں، بالخصوص پنجاب نے رضا کارانہ طور پر بلوچستان کا مالی حق بڑھانے کا مطالبہ تسلیم کیا اور تب سے اب تک پنجاب کی جانب سے 150 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ادویات کی قیمتوں کے فیصلے شفاف اور عوامی مفاد میں ہوں، اسی طرح حکومتی سطح پر ہر شعبے میں شفافیت لانا ہماری ذمہ داری ہے۔
دہشت گردی کا چیلنج اور علاقائی صورتحال
وزیراعظم نے مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کی شہادت کو اندوہناک سانحہ قرار دیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں اب تک 90 ہزار پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے جو مسلسل تخریب کاری کے لیے وسائل فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے اور ہم نے افغان عبوری حکومت کو باور کرایا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، تاہم وہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائی میں ناکام رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان سمیت آٹھ اسلامی ممالک کی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی اشتعال انگیزی کی مذمت کرتے ہوئے ہم عالمی سطح پر بھی امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔
معاشی اصلاحات اور شفاف حکومتی نظام
ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے مسائل کا حل شفاف حکومتی نظام میں مضمر ہے۔ انہوں نے ایف بی آر میں اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال سیلز ٹیکس اور دیگر بالواسطہ ٹیکسوں کی مد میں 800 ارب روپے اکٹھے کیے گئے جو ایک بڑی کامیابی ہے۔ کچھی کینال منصوبے کے بارے میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس پر کام کی رفتار بڑھائی جائے گی کیونکہ آبی ذخائر کے لیے رواں بجٹ میں 368 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کے لیے دانش سکولز کے قیام اور لیپ ٹاپ کی تقسیم کو تعلیم و ہنر کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ ہم نے نوجوانوں کے ہاتھوں میں کلاشنکوف کے بجائے لیپ ٹاپ دیے ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ وقت دور نہیں جب بلوچستان کے عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات میسر ہوں گی اور پاکستان معاشی اور عسکری لحاظ سے ایک مستحکم ملک بن کر ابھرے گا۔ اس سے قبل، وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کیا ہے، جو ملک کے دفاعی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔