مرکزی مواد پر جائیں
اسلام آباد --°
--:--:--
بریکنگ نیوز
ایکسکلوزژ

بانی پی ٹی آئی رہائی فورس وجود نہیں رکھتی، وزیراعلیٰ کا جواب

بانی پی ٹی آئی رہائی فورس وجود نہیں رکھتی، وزیراعلیٰ کا جواب

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی آئینی عدالت میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے منسوب مبینہ ‘بانی پی ٹی آئی رہائی فورس’ کے خلاف دائر آئینی درخواست کی سماعت کے سلسلے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنا تفصیلی جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔ آٹھ صفحات پر مشتمل یہ جواب ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے ذریعے عدالت میں پیش کیا گیا، جس میں درخواست کو بے بنیاد، قبل از وقت اور ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اپنے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ ‘بانی پی ٹی آئی رہائی فورس’ کے نام سے کبھی کوئی تنظیم یا فورس قائم نہیں کی گئی۔ جواب میں کہا گیا کہ اصل اقدام ‘بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک’ ہے، جو ایک پرامن، غیر مسلح اور رضاکارانہ عوامی تحریک ہے اور اس کا مقصد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنا ہے۔ جیسا کہ خیبرپختونخوا میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس تبدیل، آر ایف آئی ڈی ٹیکنالوجی متعارف کے بعد انتظامی امور میں شفافیت لائی گئی ہے، اسی طرح یہ تحریک بھی مکمل طور پر آئینی دائرہ کار میں ہے۔

پرامن تحریک کا آئینی جواز

عدالت میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ رہائی امن تحریک میں کسی قسم کا مسلح ڈھانچہ، نجی ملیشیا یا عسکری تنظیم موجود نہیں، اس لیے درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی درخواست سیاسی مقاصد کے حصول اور غلط بیانی پر مبنی ہے، جس میں ایسے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں جن کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ جواب میں مزید کہا گیا کہ درخواست گزار اپنے الزامات کے حق میں بنیادی حقوق کی کسی خلاف ورزی کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق رہائی امن تحریک کو آئین پاکستان کے آرٹیکل 16، آرٹیکل 17 اور آرٹیکل 19 کے تحت اجتماع، تنظیم سازی اور اظہارِ رائے کی آزادی کا مکمل تحفظ حاصل ہے، جبکہ آرٹیکل 256، جو نجی مسلح تنظیموں سے متعلق ہے، اس معاملے پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ رہائی امن تحریک کسی بھی لحاظ سے مسلح تنظیم نہیں ہے۔ یہ معاملہ اس وقت انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے جب ملک میں مختلف سیاسی گروہ وزیر داخلہ محسن نقوی کی امیر جماعت اسلامی سے اہم ملاقات جیسے اقدامات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

قانونی نکات اور استدعا

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ پرائیویٹ ملٹری آرگنائزیشنز ایکٹ 1973ء کا اطلاق بھی اس تحریک پر نہیں ہوتا، کیونکہ اس کی سرگرمیاں مکمل طور پر پرامن اور غیر عسکری نوعیت کی ہیں۔ جواب میں امن و امان کو لاحق خطرات سے متعلق تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ رہائی امن تحریک کا ماضی میں سرگرم کسی بھی مسلح تنظیم سے موازنہ گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے عدالت سے استدعا کی کہ آئینی درخواست کو ابتدائی مرحلے پر ہی ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کیا جائے۔ انہوں نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ بانی پی ٹی آئی رہائی امن تحریک کو آئین اور قانون کے مطابق ایک جائز اور قانونی عوامی تحریک قرار دیا جائے۔ یاد رہے کہ جیسے ماضی میں ممتاز ایٹمی سائنس دان اور سابق چیئرمین پی اے ای سی پرویز بٹ انتقال کر گئے تھے، قومی معاملات پر ماہرانہ آراء کی اہمیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔ واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے اس مقدمے میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے جواب طلب کر رکھا تھا، جبکہ کیس کی آئندہ سماعت 29 جولائی کو مقرر کی گئی ہے، جہاں عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید کارروائی کرے گی۔

شیئر کریں: f 𝕏 🔗
تحقیقاتی صحافی

Editor

اپنی رائے دیں